بڑے لوگوں کی اپنی جگر گوشہ بیٹیوں سے انمول محبت کی سچی داستان

رحمت کی مُورتیں__بیٹیاں
          (مشاہیرِ کائنات کی اپنی" بیٹیوں" سے محبّت)

محترمہ حضرت حوا (عليها السلام) کے ہاں صبح وشام اولاد ہوتی تھی، یہ تو نہیں پتا کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے بطن سے بیٹا پیدا کیا یا پھر بیٹی؛ لیکن جب ان کی پہلی بار "بیٹی" پیدا ہوئی ہو گی تو ان کی مسرت اور دلسوزی کا کیا عالم ہو گا۔ اس بیکراں دنیا میں اپنے جیسی ایک اور صورت دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت موسی علیہ السلام کو جب ان کی ماں نے صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کیا تو ان کی بہن مریم سلام اللہ علیہا ان کے صندوق کو دریائے نیل کی لہروں پر جھانکتی رہیں اور جب تک موسی علیہ السلام کا صندوق فرعون کے محل میں اس کی بیوی کے پاس نہیں پہنچ گیا موسی علیہ السلام کی بہن مسلسل تعاقب میں رہیں اور موسی علیہ السلام کو دوبارہ اپنی ماں تک پہنچوایا؛ دوسری طرف اہل فن نے لکھا ہے کہ اگر یوسف عليه السلام کی بھی کوئی بہن ہوتی تو وہ انہیں اپنے دل کی گہرائیوں میں ایسے پناہ دیتی کہ ان کے بھائی انہیں کنویں کی گہرائی میں نہ پھینک سکتے۔اگر یوسف عليه السلام کی بھی کوئی بہن ہوتی تو وہ بھی موسی علیہ السلام کی بہن کی طرح بھائیوں کا تعاقب کرتی اور آ کر احوال اپنے باپ کو بتاتی لیکن یوسف عليه السلام کی کوئی بہن نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
امام المحدث احمد بن حنبل رحمة الله عليه کے پاس ان کا دوست آیا اور ساتویں بیٹی کی خبر دی تو آپ نے کہا صبر کر! اور خوش رہ کہ
انبیاء علیہم السلام بھی بیٹیوں کے باپ ہوا کرتے تھے۔حضرت شعیب عليه السلام کو اپنی بیٹیوں سے خاص انس تھا۔وہ ان کی دن رات خدمت کرتیں ۔موسی عليه السلام نے دس سال ان کی خدمت کر کے ان کی بیٹی سے نکاح کیا۔حضرت امیر معاویہ رضي الله تعالى عنه اپنے دربار میں بیٹھے تھے ان کے خاص دوست عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنه داخل ہوئے؛ ان کی انگلی ایک ننھی بچی نے تھام رکھی تھی ؛ امیر معاویہ رضي الله تعالى عنه نے تعجب کیا کہ ریاستی ایوان میں یہ بچی کون ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ اور ان سے پوچھا یہ بچی کون ہے؟ تو حضرت عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنه نے کہا :
"یہ میرے گُلِ دل کے ساتھ ملی کلی؛ میری آنکھ کی راحت اور دل کی خوشی ہے؛ یہ میری بیٹی عائشہ ہے"۔دور جاہلیت میں عرب بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے ایک شخص " زید بن عمرو بن نفیل" جو کہ صحابی حضرت سعید بن زید رضي الله تعالى عنه کا باپ تھا؛ وہ ویرانوں اور قبرستانوں میں جا کر کھڑا ہوتا اور ظالموں سے ان کی نومولود بیٹیاں خود لے لیتا ان کو کہتا کہ تم اپنی بیٹیوں کو قتل نہ کرو بلکہ مجھے سونپ دو۔وہ ایک باپ کی طرح ان بچیوں کو پالتا؛ اتنا عظیم انسان تھا کہ اس معاشرے میں وہ اکیلا؛ تن تنہا یہ کام کرتا؛ لوگوں سے لڑتا ان کی بیٹیاں خود اٹھا کر بہ مقدور ان لوگوں کو اپنی بیٹیاں مارنے سے روکتا۔اس نے سینکڑوں لڑکیاں پالیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا : " یہ شخص اللہ کی توحید کا علمبردار بن کر کل قیامت کے دن ایک امت کے طور پر زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہو گا"۔ اس کے مرنے کے بعد صدیوں تک اس کے قبیلے والے اس کے اس وصف پر قصیدے اور نظمیں لکھ کر فخر کرتے رہے۔اسلام نے اس شخص کو 
"عظیم انقلابی" اور" بیٹیوں کا باپ" کہہ کر یاد کیا ہے ۔
علماء اور فضلاء؛ اہل فن؛ فلسفی ؛ شاعر ؛ ادیب ؛ اور بڑے بڑے امام اپنی بیٹیوں کے نام اپنے نام کے ساتھ بطور کنیت لگاتے ؛ وہ بھلا بیٹیوں سے کتنا پیار کرتے ہونگے۔ ابن ابی لیلی؛ ابو مریم؛ ابو عائشہ؛ ابو حنیفہ (رحمت اللہ علیہم ) جیسے عظیم ائمہ چند مثالیں ہیں۔اپنے جگر گوشوں کے ناموں کو اپنے ہمراہ محبت سے ایسے چمٹا لیا کہ دنیا ان کہ اصل ناموں کو ہی بھول گئی ۔عظیم امام تابعی طاؤس رحمة الله عليه بہنوں اور بیٹیوں پر خرچ کرنے کو جہاد فی سبیل اللہ سے افضل مانتے تھے ۔
قائد اعظم کی اکلوتی اولاد ان کی بیٹی دینا جناح تھی۔؛ گویا قائد اس سے نالاں تھے ؛ بظاہر قطع تعلق بھی کر لیا لیکن عمر بھر اسے یاد کرتے رہے۔اس کی وجہ سے غمگین رہتے کہ وہ ہی تو ان کی مرحومہ بیوی کی واحد یادگار تھی۔علامہ اقبال منیرہ کو آنٹی ڈورس کو سونپتے تو آبدیدہ ہو جاتے؛ بن ماں کے چھوٹی منیرہ کن اکھیوں سے اپنے عظیم باپ کو دیکھتی ہو گی------علامہ اقبال اکثر منیرہ کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے آنٹی ڈورس سے مشورہ کرتے اور ڈورس کے خیالات بھی جانتے؛ مولانا محمد حسین آزاد واقعتاً آزاد منش انسان تھے؛ اردو شاعری کے محسن ہیں ؛ ایک گوناں گو علمی اور ادبی زندگی بسر کی لیکن جوان بیٹی کی موت کا صدمہ نہ برداشت کر سکے۔ اپنی بیٹی کی فرقت میں ذہنی توازن کھو بیٹھے اور اسی جنون میں1910 کو آخر خود بیٹی ہی سے جا ملے۔
جنرل ضیاء الحق کی بیٹی زین ؛ 
زہنی طور پر کمزور اور معذور تھی۔جنرل صاحب اس کو ہر وقت اپنے پاس رکھتے؛ اس کا خیال خود کرتے ؛ نوکروں اور نگرانوں کے سپرد نہ کرتے ؛ اس سے بچوں کی طرح کھیلا کرتے۔
داغستان(روس) کے عوامی شاعر رسول حمزا توف کی اولاد نرینہ نہ تھی بس تین بیٹیاں ہی تھیں۔ ان کی ساری بیٹیاں ان کی ہم شکل تھیں۔ رسول ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ان کی شادی کے بعد اپنی نواسیوں سے بھی والہانہ شفقت کرتے۔ان کی تصاویر میں ایک بڑی تعداد اِن کی ؛ اُن تصاویر کی ہیں جس میں وہ اپنی بیٹیوں اور نواسیوں کے ساتھ خوشگوار موڈ میں محو قیام ہیں۔ رسول کہتے تھے اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں اس کا نام حاجی مراد رکھتا۔ لطف کی بات یہ بھی ہے کہ ان کی نواسیاں بھی ان کی ہی ہم شکل ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ناول نگار اور ادیب گبرئیل گارشیا مارکیز نے ایک جگہ لکھا کہ :
"مجھے قدرت سے صرف ایک ہی گلہ ہے وہ یہ کہ میری کوئی بیٹی نہیں ہے"۔ لیو ٹالسٹائی نے کئی فلاحی سکول کھولے تھے وہ ان کی تقریبات میں اپنی بیٹیوں اور پوتیوں کو بھی لے جاتے۔اپنی پوتیوں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے؛ ان کا منہ اور ہاتھ دھلاتے اور گھر کی بیٹیوں اور لڑکوں کو اکٹھا کر کے نصیحت کرتے۔
راج کپور اپنی پوتی کرشمہ کپور کو فلم سیٹ پر لے آتے اور گود میں بٹھا کر ہدایت کاری کرتے رہتے۔۔۔۔۔کرشمہ آج تک اپنے آنجہانی دادا کا پیار یاد کرتی ہیں اور اکثر ان کی پرانی تصاویر شئیر کرتی رہتی ہیں۔دھرمیندرا دیول کے دونوں بیٹے سنی ؛ اور بوبی دیول ان کی پہلی بیوی سے ہیں جبکہ ان کی بیٹی ایشا دیول ان کی دوسری بیوی ہما میلینی سے پیدا ہوئیں؛ ایشا سب سے چھوٹی ہے لیکن سب اس سے بہت پیار کرتے ہیں؛ سنی اکثر بہن کے ساتھ خوش مزاج نظر آتے ہیں۔دونوں بھائی بہن کو بہت عزیز جانتے ہیں۔مغلیہ سلطنت کے بادشاہ اور امراء اپنی بیٹیوں کے نخروں پر جان چھڑکتے تھے۔تاریخ میں ان کی اپنی بیویوں اور محبوبات سے محبت کو تو سب جانتے ہیں لیکن اس لطیف باب کو شاید کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مغل بادشاہ تخت سے اتر کر بیٹیوں کا اکرام کرتے تھے۔شاہجہان کو جب اورنگزیب نے قید میں ڈالا تو وہ بیمار ہو گیا؛ اس کی ایک بیٹی اس کی تیماداری کرتی اور محبت سے اپنے باپ کا خیال جیل میں آ کر کرتی ۔ولیم ڈیلرمپل
کی تاریخی کتاب " The White Mughals " میں حیدر آباد دکن کی عورتوں کے کئی تذکرے ہیں؛ کہ وزیر قید خانے میں قید رہ کر بھی بیٹی کا حال پوچھتے اور اسے تحائف بھیجتے ۔
اخوان المسلمون کے لیڈر اور مرشد عام ؛ 
سید قطب شہید رحمة الله عليہ نے قید خانے سے اپنی ہمشیرہ کے نام خطوط لکھے تھے؛ ان میں اپنی بہن سے والہانہ محبت اور شفقت کا بیان کیا۔وہ اپنی بہن کو فلسفہ حیات؛ اخوانیوں کا مشن اور اسلام کی اصل خوب انداز سے سمجھاتے ہیں۔ان کے یہ خطوط عربی میں " افراح الروح" جب کہ اردو میں " روح کے نغمے" کے عنوان سے طبع ہوئے۔
امارو ؛ قدیم ہندوستان کا 500 قبل مسیح کا سنسکرت شاعر ہے؛ اس نے (غالباً) اپنی بیٹی کی موت پر ایک نظم لکھی؛ میرا جی ~ نے اپنی کتاب مشرق و مغرب کے نغمے میں اس کا ترجمہ کیا ہے:
: "وہ مر چکی ہے_____________
مگر پھول اب بھی مسکراتے ہیں؛
اے موت!
اس لڑکی کو حاصل کرنے کے بعد
تجھے مارنے کی فرصت کیسے ملتی ہو گی؟"
بیٹی سے محبت کے باب میں سب سے زیادہ عجیب حکایت حضرت عائشہ رضي الله عنها کی ہے؛ فرماتی ہیں: " میرے پاس ایک فقیر عورت اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کے ہمراہ آئی اور سوال کیا؛ میرے پاس گھر میں صرف ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے وہ بھی اسے دے دی؛ اس نے کھجور کے دو ٹکڑے کیے ؛ آدھا ایک بیٹی کو دے دیا اور آدھا دوسری کو ؛ خود کچھ نہ لیا؛ میں اس کی محبت پر حیرت زدہ ہوگئی"۔
بیٹی کے لیے سب سے خوبصورت جملہ اور بات 
نبی اکرم ﷺ نے فرمائی؛ آپ ﷺ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے اکرام میں کہا:
" فاطمہ
رضي الله عنها تو گویا اپنے باپ ﷺ کی ماں ہیں"۔
اور یہ بھی فرمایا:
" فاطمہ میرے وجود ( جسم و روح) کا جزء ہے؛ جو اسے تکلیف دیتا ہے وہ گویا مجھے تکلیف دیتا ہے؛ اور جو اسے خوشی دیتا ہے وہ گویا مجھے راحت دیتا ہے"۔
جب حضرت فاطمہ رضي الله عنها آتیں تو آپ ﷺ ان کے استقبال اور اکرام میں کھڑے ہوجاتے ؛ ان کی پیشانی چومتے اور اپنی نشست پر بٹھاتے؛ جنگ یا سفر سے آتے تو پہلے حضرت فاطمہ رضي الله عنها سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے۔ 
ترمذی رحمة الله عليه نے حضرت عائشہ رضي الله عنها سے روایت کیا کہ دنیا میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمہ رضي الله عنها اور ان کے شوہر رضي الله تعالى عنه سے تھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضي الله عنها نے جب وفات پائی تو آپ ﷺ نے ان کو اپنے لباس کی چادر میں کفن دیا اور خود قبر میں اترے؛ اور فرمایا:
" یہ میری سب سے اچھی بیٹی تھی، جسے میری خاطر آزمائش میں ڈالا گیا"۔
آپ ﷺ اپنی نواسی اُمیمہ بنت زینب
رضي الله تعالى عنهما کو اٹھا کر نماز کی امامت کرواتے؛ جب سجدہ کرتے تو انہیں بٹھا دیتے بعد میں پھر اٹھا لیتے۔
بیٹیاں تو مجسم رحمت ہیں اور خدا کی رحمت سے رحمت لے کر؛ رحمت بن کر؛۔۔۔۔۔۔۔ وہ رحمت ہی دینے آتیں ہیں۔عالی ظرفوں اور اہل علم و فضل کی یہ ریت رہی ہے کہ وہ بیٹی کا خیال بیٹے سے زیادہ کرتے ہیں۔اہل عرب کی مثل ہے کہ
عورت کی خوش بختی کی دلیل یہ ہے کہ وہ پہلا بچہ لڑکی پیدا کرے۔ کبھی دل فطرت شناس سے آپ اگر جانور شیر؛ چیتا؛ ہاتھی؛ بلی ؛ کتا؛ خرگوش وغیرہ کے ننھے بچوں کا جھنڈ دیکھیں گے اور اس میں بھی کوئی مادہ ہو گی تو نر بھائیوں میں ایک اطاعت کی لہر اور جھکاؤ کا دائرہ آپ ضرور محسوس کریں گے۔علم حیاتیات کا یہ بھی ایک فلسفانہ نظریہ ہے۔کیسے نر اپنی مادہ بہن کے آگے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔بلاشبہ فطرت نے یہ سماں حیوانات میں بھی باندھا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نازک آبگینوں کے بارے فرمایا:
" بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو! وہ تو بھولی بھالیاں ؛ محبت کرنے والیں( تمہاری خوشی میں راضی) ؛ بیش قیمتی متاع ہیں"۔
__________
از قلم : حنظلة_الخليق

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے