از قلم ؛ فر نود رومی
30 اپریل، 2022
ترمیم: 22 اپریل، 2025
میرا پنکچر والا عبدل پچھڑا ضرور ہے مگر اس کا ضمیر، اس کی قسمت اوراس کا مستقبل ہرگز پنکچر نہیں ہے۔
میرا عبدل کبھی میزائیل مین اے پی جے عبد الکلام تو کبھی وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے روپ میں سامنے آتا ہے۔
میرا عبدل کبھی مجاہد آزادی خان عبد الغفار خان (سرحدی گاندھی) تو کبھی شہید اشفاق اللہ خان کے روپ میں دیش کے لیے لڑتے لڑتے اپنی جان دے جاتا ہے۔
میرا عبدل، کوئی عام انسان نہیں، بلکہ اقبال کا وہ شاہین ہے جو بلندیوں پر پرواز کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ جو پلٹ کر، چھپٹ کر اور لپک کر خوں گرم کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے۔ اس کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ اس کی ذات اور اس کا وجود تو تمام انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔
مگر میرے پنکچر والے عبدل کے ساتھ ہو رہے ناروا سلوک کو تو دیکھیں۔
اسکی سبھی activities کو مشکوک و مشتبہ سمجھا جاتا ہے۔کبھی اسے پتھر مار گینگ کا ممبر گردانا جاتاہے تو کبھی اپنی ہی عبادت گاہوں میں انسانیت سوزی کا ملزم بنا کر برسوں پابند سلاسل کردیاجاتا ہے۔عرصہ دراز تک کورٹ کے چکروں کے بعد جب وہ بالآخر رہا ہوتا ہے تواسے اپنے ہی لوگوں کی سرد مہری سے سابقہ پڑتا ہے۔مدتوں جیل میں گذارنے کے بعد جب اس کی ضمانت و رہائی ہوتی ہے تو خاموش سماجی بائیکاٹ اور لوگوں کی مشکوک نظروں کو سہن کرتے کرتے اور اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر، آخر کو ایک دن اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے۔افسوس! کہ اسے اپنے ناکردہ گناہوں پر ملنے والی بیجا سزا پر اور زندگی کے بیش قیمت ایام کی بربادی پر نہ کوئی compensation مل پاتا ہے نہ ہی اس کی فیمیلی کبھی اس shock سے باہر آپاتی ہے.
میرا عبدل وہی پنکچر والا ہے، جسے کبھی لو جہاد، کبھی گئو کشی تو کبھی لینڈ جہاد کے نام پر ٹارگیٹ کیا جاتا ہے۔ کبھی سفر میں تنہا پاکر سنسکرت میں خدا کے پَوِتْرْ نام کی پکار نہ لگانے پر داڑھی و کرتا کی بے حرمتی کر کے اس پر آوازے کسے جاتے ہیں. اور اسی پر بس نہیں کیا جاتا بلکہ اکثر و بیشتر ماب لنچنگ کر کےموت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
ہاں میں اسی پنکچر بنانے والے عبدُل کی بات کر رہا ہوں جسے سرکاری دفاتر اور اداروں میں بیٹھے متعصب ملازمین ،حلیہ اور زبان کی بنیاد پر یا تو ریسپانس نہیں دیتے یا پھر اس کے کام کو مؤخر کرکے اسے چکر لگانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اور ہاں! کبھی وہ ہرے رنگ کا ہلالی جھنڈا اپنے گھر کی چھت پر لگا لےتو اسے دیش دروہی تصور کیا جانے لگتا ہے.
میرا یہی عبدل، کبھی مسلکی جھگڑوں میں الجھا نظر آتا ہے، کبھی سنیما گھر میں آتش بازی کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو کبھی اپنے گاہگوں سے بدتمیزی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے.تو کبھی پیسوں کے معاملات میں سفید جھوٹ بولتے ہوئے دیکھاجاتا ہے۔اور تو اور....مفاد پرست اور مکار سیاسی لیڈروں کے اشارے پر صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح بھی کہنے لگتا ہے میرا عبدل۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میرا عبدل ماضی و حال کے واقعات سے سبق کیوں نہیں لیتا کہ اسے دشمنان توحید صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے ہیں اور وہ ہے کہ غفلت کی چار تان کر سوتا پڑا ہے۔
اسی سوچ میں غلطاں و پیچاں، خیالات کی جنگ میں الجھا، سیلنگ کو گھورتا ہوا میں نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہوں اس امید کےساتھ کہ شاید آنے والی صبح کو میں اپنے عبدل کو بدلا ہوا پاؤں۔

0 تبصرے