سب کچھ کرو ، مگر بیلینس رکھو

از ؛ فرنود رومی، مالیگاؤں
شکیل جمالی نے کہا ہے، 
ہمارا حق دبا رکٌھا ہے جس نے 
سُنا ہے حج کو جانا چاہتا ہے 
عجیب المیہ ہے کہ دین داری والے سیاست میں آئے تو محض دین دین رٹتے ہوئے اپنی منصبی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرلی۔
اور جب دنیاپرست لوگ سیاست میں آئے تو دنیادار ہی بن کر رہ گئے، نہ قانون کا ڈر رہا اور نہ ہی خدا کا خوف.
اس حوالے سےخلفائے راشدین کی دینی و سیاسی زندگی سامنے رہے تو دینی امور و فرائض اور منصبی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے بیلنس کیا جا سکتا ہے.

١٥ جولائی، ٢٠٢٢

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے