آج کے خطبہ عید الفطر سے ہم نے کیا سیکھا؟

از : فرنود رومی، مالیگاؤں


آج عید الفطر کے خطبے میں پیش کردہ دو احادیث نہایت اہمیت کی حامل تھیں۔

مسند احمد میں ہے کہ،
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت بہت نمازیں پڑھتی، روزے رکھتی اور صدقہ کرتی تھی، مگر اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جہنمی ہے"۔
اسی مجلس میں ایک دوسری عورت کا ذکر کیا گیا جو صرف فرض نمازیں پڑھتی تھی اور معمولی سا صدقہ (پنیر کے ٹکڑے) کرتی تھی، لیکن کسی پڑوسی کو تکلیف نہیں دیتی تھی۔ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: "وہ جنتی ہے۔"

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حقوق العباد (پڑوسیوں کے حقوق) کی ادائیگی کے بغیر صرف حقوق اللہ (عبادات) کافی نہیں ہیں۔ 
علاوہ ازیں معلوم ہوا کہ صرف زیادہ عبادات (نماز، روزہ) کافی نہیں، اخلاق اور حقوق العباد کا درست ہونا ضروری ہے۔
اپنی زبان سے دوسروں کو تکلیف دینا (غیبت، چغلی، بدزبانی) جہنم کا سبب بن سکتا ہے۔
سو جان لیں کہ اسلام میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی سختی کے ساتھ تاکید فرمائی گئی ہے ۔لہذا ہم اپنے اخلاق و معاملات درست کرلیں کہ کہیں اس حوالے سے کوتاہی پر ہماری گرفت نہ ہوجائے۔

یہاں بخاری و مسلم میں وارد وہ حدیث پیش نظر رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جبرئیل مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اسے وراثت میں حصہ دار بنا دیں گے۔"

دوسری جو حدیث پیش کی گئی وہ اسوہ حسنہ سے متعلق تھی۔
 بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک روز یہود و منافقین نے آنحضرت ﷺ کو سلام کیا، مگر سلام کی بجائے سام (ہلاکت، بربادی) کہا۔ حضور ﷺ نے جواب میں فرمایا وعلیکم، (اور تم پر بھی) ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہیں سن رہی تھیں، ان سے برداشت نہ ہوسکا، غصہ سے فرمایا، السام علیکم، ولعنکم اللہ، وغضب علیکم۔ ” موت تمہیں آئے، اور تم پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑے۔ “ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا : مہلاً یاعائشہ، علیک بالرفق وایاک والعنف والفحش ” اے عائشہ ! صبر کرو، نرمی سے پیش آئو، اور بدکلامی نہ کرو۔ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ نے غور نہیں فرمایا انھوں نے کیا کہا ؟ فرمایا، میں نے جواب میں کہہ دیا۔ وعلیکم، یعنی اور تم پر بھی ۔
اب اگر انہوں نے مجھے بددعا دی ہوگی تو میں نے وہی الفاظ ان پر لوٹا دیے اور اگر دعا دی ہوگی تو ان پر دعا کے کلمات لوٹیں گے۔

یہ ہمارے نبی کے اخلاق تھے کہ کوئی گالی نکالے تو ہم جواباً گالی نہ نکالیں بلکہ دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے نپی تلی بات کریں۔

خطیب نے آگے فرمایا کہ ہم بحیثیت مسلم قوم، اس سماج و معاشرے کے لیے فائدہ مند بنیں، نقصان پہنچانے والے نہ بنیں ۔کیوں کہ اپنی ذات سے دوسروں کو نفع پہنچانے والے اور ان کی تکلیف کو دور کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب اور نیک نامی ہے۔ 

غرضیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ، آپ کا اسوہ، آپ کا ہر قول وعمل لائق اتباع اور واجب الاتباع ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرتِ طیبہ سے سبق لیتے ہوئے اپنی زندگیوں میں انقلاب لانے کی کوشش کریں۔

اخیر میں آپ سبھی احباب کو عید الفطر کی پرخلوص مبارک باد، اس دعا کے ساتھ۔
تقبل اللہ منا ومنکم۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے