تحریر : فرنود رومی، مالیگاؤں
ایک کمر شیل عمارت کی دیوار پر ہم نے لکھا دیکھا،
"اس بلڈنگ کی دیواروں اور سیڑھیوں پر تھوکنا منع ہے۔اس سے اچھا ہے آپ اپنے اوپر تھوک لیں۔"
دیکھنے اور پڑھنے میں تو یہ عبارت funny معلوم ہوتی ہے، مگر دراصل یہ اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے، جس سے ہمارا سابقہ روزمرہ کی زندگی میں برابر ہوتا رہتا ہے۔
جون صاحب کہتے ہیں،
کتنے ظالم ہیں جو یہ کہتے ہیں
توڑ لو پھول ، پھول چھوڑو مت
باغباں ہم تو اس خیال کے ہیں
دیکھ لو پھول، پھول توڑو مت
آپ مانیں یا نہ مانیں ہم تعمیری مزاج سے زیادہ تخریب کار ذہنیت رکھتے ہیں۔
تعلیم و تربیت کا معاملہ ایسا ہے کہ اگر کسی محلے میں کوئی پاگل جاتا دکھائی دے دے تو ہمارے بچے پتھر اٹھا لیتے ہیں اور ردعمل میں اس کی بے طرح گالیاں کھاکر بھی بدمزہ ہوئے بغیر اسے دور تک ہُڑکاآتے ہیں۔
اخلاقیات کی بات کریں تو ہمیں راستے کے حقوق ہی نہیں سمجھ آتے۔ اگر محلے کی سڑک بن رہی ہو تو ہم بڑی ڈھٹائی کے ساتھ گھر کے سامنے ہی ٹیلا نما بریکر اپنی سیفٹی کا سوچ کر بنا لیتے ہیں، مگر ان گزرنے والے بائیک سواروں اور ان کے پیچھے بیٹھی ماؤں بہنوں کا نہیں خیال کرتے جن کی کمر کی ہڈیاں جھٹکے کے سبب چٹخ چٹخ سی جاتی ہیں۔
گھر میں اگر شادی بیاہ کا موقع ہو تو ہم اپنے باپ کی گلی سمجھ کر گھر کے سامنے سڑک پر ہی شامیانہ لگا کر راستہ بلاک کردیتے ہیں، کہ گزرنے والے ایک گلی آگے سے مڑجائیں گے تو ان کا کوئی نقصان تھوڑی نہ ہو جائے گا۔
طرز معاشرت کی بات کریں تو ہمارامزاج اس قدر تعمیری ہے کہ ہر گلی محلے میں ہم اپنے گھر کی حد سے باہر موقع پاتے ہی آناً فاناً تعمیری کام کر لیتے ہیں۔
صاف صفائی (نصف ایمان) کی بات کریں تو وہ ہمیں راس نہیں آتی۔ ہر صاف ستھری جگہ پر اپنی چھاپ چھوڑ دینے کا مرض ہمارے اندر سے کسی طور ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔
سیاسی، سماجی، سرکاری وغیر سرکاری، خواہ آپ کسی بھی عمارت کی سیڑھیاں چڑھ جائیں، آپ کو جابجا دیواروں اور کونوں کھدروں میں پان اور گٹکھے کی ان گنت پچکاریاں ماری ہوئی دکھائی دیں گی۔
چائے کے کسی ہوٹل پر چائے نوشی کی غرض سے بیٹھنا بھی ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اگر اپنے دائیں، بائیں یا آگے اور پیچھے کی سمت بغور نظر فرمالیں تو آپ کو کھنکھارے ہوئے تھوکوں اور پان کے سرخ و دبیز چھینٹوں سے کوئی جگہ خالی نہیں ملے گی۔
راستہ چلتے ہوئے سڑک کے درمیان ڈیوائیڈر پر توجہ فرمائیں تو وہ بھی تھوکے ہوئے پان یا گٹکھے کی پیٖکوں سے لبریز نظر آتے ہیں جو ان کے کھانے اور چبانے والے روزانہ آتے جاتے بطور خراجِ عقیدت ثبت کرتے جاتے ہیں۔
لازم ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے اطراف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور اپنے باشعور ہونے کا ثبوت دیں۔
یار زندہ صحبت باقی!
0 تبصرے