از قلم : فرنود رومی، مالیگاؤں
حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرنے پر وعیدیں سنائی گئی ہیں۔
آپ نے کسی کا دل دکھایا ہو، ناحق کسی کو زِچ کیا ہوتو اس سےجہاں آپ کے نیک اعمال متاثر ہو سکتے ہیں وہیں آپ کی نیکیاں بھی مظلوم کی جھولی میں ڈالی جا سکتی ہیں۔
جب کبھی آپ کسی کو ستائیں، اس کو اپنی زبان، اپنی حرکتوں سے تکلیف پہنچائیں اور اس پر وہ بندہ جواب میں کچھ نہ کہے، چپ کرجائے اور صبر کا مظاہرہ کرے، تو آپ یہ گمان کرکے خوش نہ ہوں کہ وہ آپ (یا آپ کی طاقت) کے ڈر سے چپ بیٹھ گیا ہے اور اس حرکت پر آپ کی گرفت نہیں کی جائے گی۔ یقین جانیں کہ اس کی یہ خاموشی مستقبل میں آنے والے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے. کیا پتہ وقتِ قبولیت ہو اور اس کے دل سے آہ نکل کر سیدھے عرش تک جا پہنچی ہو اور بارگاہ الٰہی میں فوراً اس کی شنوائی ہورہی ہو۔
اس لیے دوسروں کی زندگیوں میں خلل ڈالنے، ان کے عیبوں کو ڈھونڈنے اور ان پر بہتان طرازی سے گریز کریں، وگرنہ ایک روز آپ کے گھر پر بھی پتھر پلٹ کر آئیں گے، بس وقت وقت کی بات ہے۔
ایک صاحب تھے۔ بڑی پارسائی بگھارا کرتے۔دوسروں کے نجی معاملات میں خوب دخل اندازی کرتے۔ پچھلے دنوں ان کی بیٹی ایک رکشے والے کے ساتھ گھر سے فرار ہوگئی اور کسی دوسرے شہر جا کر شادی رچالی۔رسوائی و بدنامی ہوتے دیکھ انہوں نے اسے اپنی سنتان ماننے سے انکار کردیا اور اپنی جائیداد سے عاق کردیا۔اب وہ چُپ چُاپ سے رہتے ہیں اور مارے شرمندگی کے کسی سے ملتے جلتے بھی نہیں۔
ایک صاحب اور تھے، ہر کسی کا مذاق بنایا کرتے اور اس حد تک کہ دل آزاری کردیا کرتے۔بچوں کی شادی ہوگئی تو سبھی نے اپنی راہ لی اور ماں باپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔بیوی فوت ہوجانے کے بعد کوئی سہارا نہ بچا۔اب دربدر بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ لوگ انہیں دیکھ کر عبرت پکڑتے ہیں کہ یہ وہی شخص تھا جو دوسروں پر ہنستا اور ان کا دل دُکھایاکرتاتھا۔
لہذا کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے قبل اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں اور لوگوں کو گزند پہنچانے سے بچیں کہ کب کسی کی ہائے بددعا لگ جائے، اللہ کا قہر نازل ہو اور آپ کسی ناگہانی مصیبت کی چپیٹ میں آکر سخت پریشانی میں مبتلا ہوجائیں۔
سورہ مومنون آیت نمبر 110تا 111 میں اللہ نے ارشاد فرمایا۔
فَاتَّخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰٓى اَنۡسَوۡكُمۡ ذِكۡرِىۡ وَكُنۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ.
اِنِّىۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوا ۙ اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ.
ترجمہ: تو تم نے ان کو مذاق بنا لیا، یہاں تک کہ ان کے ساتھ تمہارے اس شغل نے تم کو میری یاد سے غافل کردیا اور تم ان پر ہنستے رہے۔ مگر انہوں نے صبر و استقامات کا دامن نہ چھوڑا، جس پر آج میں نے ان کو ان کے صبر کا یہ پھل دیا کہ وہ لوگ کامیاب و بامراد ہو گئے۔
اس آیت کی تفسیر (تفسیر ماجدی، بیان القرآن از تھانوی وغیرہ) پڑھیں تو آپ پر واضح ہوگا کہ ہمیں حقوق العباد کے معاملے میں اللہ سے کس قدر ڈرتے رہنا چاہیے۔ یار زندہ صحبت باقی!
0 تبصرے