تحریر - فرنود رومی، مالیگاؤں
شہریان یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ جو سڑکیں ابھی اور کئی سال تک چلنے لائق ہیں انہیں مزید لیپا پوتی کرتے ہوئے پھر سے کیوں بنایا جارہا ہے۔جبکہ بغل والی کیچڑ زدہ روڈ جس پر گڑھوں کا ایک لامتناہی سلسلہ موجود ہے ، اس کا کام کیا جانا چاہیے کہ جس پر چلتے ہوئے مائیں بہنیں جب پھسل پھسل گرتی ہیں تو ذمہ دار پرشاشک اور سیاسی لیڈران کی شان میں وہ قصیدے پڑھتی اور ان کی اگلی پچھلی نسلوں کو وہ صلواتیں سناتی ہیں کہ اگر کبھی یہ صاحبان اپنے کانوں سےسن لیویں، تو ان کا آلہ سماعت مجروح ہوکر پورا وجود و سراپا تھرّا جائے۔
مگر کیا کِیجے کہ بے ضمیری کا عنصر اس قبیل کے لوگوں میں کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے. "میں جھکے گا نہیں سالا" کے مصداق بے شرمی اور بے غیرتی درمیان میں حائل ہوجاتی ہے اور اپنے الیکشنی کاز کے تحت لیپا پوتی کا کام محض دکھاوے کی خاطر چلتا رہتا ہے، کیوں کہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ "لوبھی گاؤں میں لباڑ بھوکا نہیں مرتا".

0 تبصرے