(ایک پَنٹر کی کہانی خود اس کی زبانی)
از قلم : فرنود رومی، مالیگاؤں

قدرت کے کھیل ہی نرالے ہیں.انسان پیدا ہی ہوتا ہے بھوک کے ساتھ روتے بلبلاتے ہوئے۔ اور یہ پیٹ کی آگ بھی بڑی بری شئے ہے۔حلال حرام کی تمیز بھلا دیتی ہے. جب یہ آگ برداشت سے باہر ہوجاتی ہے تو پھر آدمی جرم کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔اپنے ضمیر تک کو ماردیتا ہے اور وہ کام بھی کربیٹھتا ہے جو اس کی پچھلی پیڑھیوں نے بھی کبھی کرنا پسند نہیں کیا۔
بچپن میں بڑے کھیل تماشے کیے۔گلی محلے والوں کا جینا حرام کیا۔اسکول سے بھاگ کر ادھر ادھر دوستوں کے ساتھ مٹر گشتیوں میں وقت گزارا۔خدا خدا کرکے دسویں میں پہنچا تو فائنل امتحان میں چِٹ کرتے ہوئے اسکاڈ نے پکڑلیا اور نتیجتاً فیل کردیا گیا۔ اس دن سے گھر والوں کی پھٹکار، طعنوں اور لعنت و ملامت کا جو آغاز ہوا تو پھر یہ سلسلہ تھما نہیں۔ کوئی نوکری اور کاروبار تو تھا نہیں.گھر والوں نے رکامہ،بھامٹا، بے روزگار اور پتہ نہیں کیا کیا بول بول کر جینا حرام کردیا۔گھر سے نکال دینے تک کی دھمکی ملنے لگی۔دو تین بار تو ابا مارنے بھی دوڑے۔کتنی مرتبہ تو امی نے بال پکڑکردبوچنے کی کوشش کی مگر میں بڑی پھرتی کے ساتھ جان چھڑا کر یہ جا وہ جا ہوا۔ خرچہ پانی کا انتظام کہاں سے ہوگا یہ سوچ سوچ کر ایک دن میں پندرہ سولہ پوڑی بابا گٹکھے اور چینی کھینی کی کھا جایا کرتا۔ تمباکو اور گٹکھے کے لیے لی گئی ادھاری دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔یار دوست قرض مانگنے آئے دن گھر پر آدھمکتے تھے۔بڑی مشکل سے پیچھے کے دروازے سے پتلی گلی پکڑ کر نکل جاتا۔
روز کا یہ معمول بن چکا تھا۔مگر اب کچھ کرنا تھا۔زندگی کی گاڑی کو ٹھیک سے چلانے کے لیے اٹھا پٹک کرنا ضروری تھی۔
انہی ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صورت یہ نظر آئی کہ اب کسی لیڈر کا دامن تھام لیا جائے اور اس کی واہ واہی اورورکری کرکے خرچے پانی کا بندوبست کیا جائے.
پھر کیا تھا۔۔شہرعزیز کے ایک دبنگ لیڈر کے دو پرانے ورکروں کے سامنے درخواست ڈال دی۔ خوش قسمتی سے ایک لیڈر کی ورکری کا آفر ملا۔ جھٹ سے اسے قبول کرلیا۔
اوراب۔۔۔۔۔ زندگی سکون سے کٹ رہی ہے۔گلی محلے میں بھی کبھی نظر پھیر کر گذرنے والے اب سلام کرنے لگے ہیں۔ادھار دینے والے اب ادھار مانگنے سے ہچکچاتے ہیں.لیکن والد گرامی یعنی ابا ہمارے، اب بھی رِکامہ ہی بولتے ہیں.خیر ان کے کہے کویکسر نظرانداز کرتا ہوں۔
انہی ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صورت یہ نظر آئی کہ اب کسی لیڈر کا دامن تھام لیا جائے اور اس کی واہ واہی اورورکری کرکے خرچے پانی کا بندوبست کیا جائے.
پھر کیا تھا۔۔شہرعزیز کے ایک دبنگ لیڈر کے دو پرانے ورکروں کے سامنے درخواست ڈال دی۔ خوش قسمتی سے ایک لیڈر کی ورکری کا آفر ملا۔ جھٹ سے اسے قبول کرلیا۔
اوراب۔۔۔۔۔ زندگی سکون سے کٹ رہی ہے۔گلی محلے میں بھی کبھی نظر پھیر کر گذرنے والے اب سلام کرنے لگے ہیں۔ادھار دینے والے اب ادھار مانگنے سے ہچکچاتے ہیں.لیکن والد گرامی یعنی ابا ہمارے، اب بھی رِکامہ ہی بولتے ہیں.خیر ان کے کہے کویکسر نظرانداز کرتا ہوں۔
پنٹری کا کام کیا ہوتا ہے؟ :
کام بس یہ ہوتا ہے کہ صاحب جدھر نظر پھیریں ادھر دکھائی دو۔
پارٹی آفس پہ بیٹھ کر چائے پانی کرو۔
جو صاحب کی مخالفت کرے اس کو، چاہے کچھ نہ بھی سمجھ آئے تب بھی اوٹ پٹانگ مگر دندان شکن جواب دو۔جواب دینا نہیں آتا تو گالیوں کی بوچھار کر ڈالو۔اسے فون لگا کر صاحب کی طرف سے دھمکی آمیز جملے کہو۔
جلسے جلوس میں کرایے کی بھیڑ اکٹھا کرو۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر زندہ باد کے نعرے لگاؤ۔بینروں پر اپنے فوٹوز لگواکر صاحب کی پرزور حمایت کا اعلان کرو وغیرہ۔
پنٹری کے فوائد :
روز کا 50 یا 100 روپیہ خرچہ پانی مل جاتا ہے. اور پان اور پوڑی کا الگ سے مفت انتظام ہوجاتا ہے.
گلی محلے میں کل کا رکامہ چھوکرا آج کالر ٹائٹ کرتے ہوئے چلتا ہے۔
کسی پر دھونس جما کر ایک دو طمانچہ بھی جڑ دیا تو وہ پلٹ کر کچھ کہہ نہیں پاتا کہ صاحب کا ورکر ہے۔
پینٹ پولس (ٹریفک پولس) نے کبھی پکڑ لیا اور 200 روپے مانگے تو صاحب کو ایک فون کردینے پر دینا نہیں پڑتا۔
غرضیکہ پنٹری کے اپنے ہی فوائد ہیں۔جو کسی نوکری یا جاب میں حاصل نہیں۔
کیا آپ بھی میری طرح پنٹر بننا چاہیں گے؟؟ 😉
0 تبصرے