از ؛ فرنود رومی، مالیگاؤں
راہ چلتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں، کہ لوگ کن کن آزمائشوں سے دوچار ہیں۔کسی کو زمین میسر نہیں تو کسی کو چھت میسر نہیں۔کسی کو کھانا میسر ہے تو کپڑا میسر نہیں۔ کوئی کسی موذی مرض میں مبتلا ہے اور علاج و دوا کے پیسے نہیں ہیں۔ اگر علاج و معالجے کو پیسے ہیں تو مرض ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
اور پھر کچھ لوگ بے نام اس دنیا میں آکر بے نام ہی گزر جاتے ہیں۔ان کے آنے جانے سے کسی کو چنداں فرق بھی نہیں پڑتا۔ہر کوئی نفسانفسی کے عالم میں ایک دورانیہ بِتا کر وقتِ معینہ پر اپنی حقیقی منزل کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔
مذہبی کتابیں کہتی ہیں کہ آزمائشوں میں مال اور اولاد کی آزمائشیں سب سے زیادہ ہے۔
اور بتایاجاتا ہے کہ خلقِ خدا میں، اللہ والوں کے ساتھ سب سے زیادہ آزمائشیں ہوتی ہیں۔انہیں آزمائش کی چکی میں خوب پیٖسا جاتا ہے۔
کبھی ان پر دشمنوں اور مخالف فرقے والوں کی جانب سے بہتان لگایا جاتا ہے تو کبھی صاحب حیثیت لوگوں (ٹرسٹی وغیرہ) اور خصوصاً مذہب بیزار لوگوں کے ذریعے ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔تو کبھی بھوک و افلاس میں مبتلا کر کے ان کا امتحان ہوتا ہے۔
عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل صاحب کو اللہ صبر جمیل دے۔
ایک بیٹے کا ڈپریشن کا شکار ہونا اور پھر خودکشی۔۔۔یقیناً ایک باپ کے لیے یہ بڑا ہی دلخراش سانحہ ہے۔
مولانا کے لیے اس سے cope up کرنا یقیناًبہت ہی مشکل ہوگا۔اس گھڑی میں ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اس اذیت ناک گھڑی میں اللہ رب العزت موصوف اور ان کے اہل خانہ کو سنبھالا دے۔آمین
اس سے قبل میرا لکھا ہوا مضمون " مسکراہٹ کے پیچھے کا درد" اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آدمی بھلے ہی کتنا ہی خوش نظر آجائے، اس کے پاس دنیا کے تمام وسائل آجائیں مگر ایک نہ ایک موقع ایسا ضرور آتا ہے جب وہ ہار جاتا ہے اور اسے اپنے آپ کو سمیٹنے میں بڑا وقت لگ جاتا ہے.
ہمیں ایسے وقت اس درد کو محسوس کرتے ہوئے دعائے خیر ہی کرنی چاہیے۔ مسلک و ملت کا فرق بالائے طاق رکھنا چاہیے۔اسی کے ساتھ اپنے اور خصوصاً تمام ملت اسلامیہ کے لیے آگے خیر و عافیت اور سلامتی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
30 اکتوبر، 2023
0 تبصرے