از؛ فرنود رومی، مالیگاؤں
بارش کے اِن ایّام میں اپنے بچّوں کو تاکید کریں کہ باہر جاتے وقت کسی الیکٹرک پول(کھمبے) کے پاس سے گزرتے وقت نہ ہی اسے چھوئیں اور نہ ہی اس کے قریب جائیں۔انہیں ننگے پیروں باہر جانے سے منع کریں اور پیروں میں ہمیشہ چپل یا جوتے پہن کر نکلنے کی تاکید کریں۔
ساتھ ہی ایسی جگہوں پر جہاں خوب پانی جمع ہو، وہاں جاکر انہیں کھیل کود کرنے سے منع کریں، کیا پتہ کسی کھمبے کا تار اس پانی میں کرنٹ پیدا کررہا ہو۔
اسی طرح جو لڑکے اور لڑکیاں بائیک کا استعمال کرتے ہیں وہ موسم باراں میں اس کا استعمال یا تو ترک کردیں اور آٹو رکشا سے جائیں یا پھر بہت ہی محتاط انداز میں بائیک چلائیں کہ سڑکوں پر کیچڑ، پانی اور گرے ہوئے تیل و تلہن کی وجہ سے گاڑیوں کے پھسل جانے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔
بزرگ حضرات بھی بارش کے ایام میں کسی کام کے لیے ٹو وہیلر گاڑیوں پر بیٹھ کر جانے کی بجائے آٹو رکشہ کو ترجیح دیں کیونکہ اکثر و بیشتر گاڑی سِلپ ہوجانے کی وجہ سے پیچھے بیٹھے ہوئے شخص کو زیادہ چوٹیں آتی ہیں۔
کوشش کریں کہ طلبہ کے پاس بارش سے بچاؤ کے لیے چھتری کے علاوہ رین کوٹ ہو اور بارش میں پہننے والے چپل یا جوتے ہوں۔
خدانخواستہ اگر کوئی شخص کسی کھمبے یا تار کے کرنٹ کی زد میں آگیا ہو تو اسے اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر ہرگز نہ کھینچیں بلکہ کسی سوکھی لکڑی، بامبو یا پلاسٹک کی چیز کا استعمال کر کے اسے کرنٹ والی جگہ سے دور دھکیلیں۔
اسی طرح اپنے اپنے گھروں کے باہری دالانوں، گلیوں اور محلوں میں احتیاطاً کھمبوں اور تاروں کو کسی الیکٹریشین یا خود ہی ٹیسٹر کی مدد سے جانچ لیں کہ آیا ان میں کہیں کرنٹ تو نہیں اتر رہا ہے؟
پترے کے بنے گھروں میں خصوصی طور پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بارش کا پانی کہیں سے لیٖک نہ ہو رہا ہو۔اور کسی تار کے ذریعے پانی آپ کے الیکٹرک بورڈ تک نہ پہنچ رہا ہو۔ کیونکہ ایسی صورت میں شارٹ سرکٹ ہونے اور آگ لگنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور جانی و مالی نقصان کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
یہ چند باتیں تھیں جو تجربے اور مشاہدات کی روشنی میں لکھی گئی ہیں۔
اس تحریر کو اپنے رشتہ دار و احباب کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچا جاسکے۔شکراً جزیلا!
یار زندہ صحبت باقی۔
5 اگست، 2023
0 تبصرے