ہم آج یہاں ان ادیبوں شاعروں کا تذکرہ کرنے والے ہیں جن کے ہاں ادب زندگی میں پہلی ترجیح رہا اور انہوں نے اپنا کیرئیر، اولاد، گھر، نوکری سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے اعلیٰ ادب تخلیق کیا۔ بہت سے ایسے ادیب شاعر اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ضرور ہوئے مگر مالی اعتبار سے وہ خوشحالی حاصل نہ کر سکے اور نہ ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ اُن کا وہ وقت جو اپنے بچوں کی تعلیم، اعلی نوکری اور اچھے گھرانوں میں ان کی شادیوں پر صرف ہونا تھا، وہ انہوں نے ادب پڑھنے اور تخلیق کرنے پر صرف کر دیا۔
وہ لوگ جو علم و ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں اور تقریبات میں شامل ہوتے ہیں، اور ایسے معروف ادیبوں، شاعروں کے ساتھے ملتے رہتے ہیں وہ بخوبی اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ ایسے معروف ادیبوں شاعروں نے کبھی اپنی محفلوں میں اپنے بچوں کا تذکرہ نہیں کیا. وہ کیا کر رہے ہیں، تعداد میں کتنے ہیں، شادیاں کہاں ہو رہی ہیں؟ اب اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ تحقیق طلب ہے۔البتہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ ادیب یا شاعر کے مرنے کے بعد اس کی اولاد سے تعارف ہوتا ہے۔
اظہر جاوید:
لاہور سے 48 سال سے مسلسل شائع ہونے والا دو ماہی تخلیق ، جنوبی ایشیا کے مستند اور معتبر ادنی جراید میں شمار کیا جاتا ہے ۔ شاعر ۔ افسانہ نگار اور صحافی اظہر جاوید اسے 1969 سے باقاعدگی سے نکال رہے تھے ۔ تخلیق کا اپنا ایک وسیع ادبی حلقہ مستحکم ہوگیا تھا ۔ 2012 میں ان کی اچانک وفات کے بعد ان کے صاحبزادے سونان اظہر جاوید اسے بہت استقامت اور خوش اسلوبی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اظہر صاحب جب تک زندہ تھے، اپنے رسالے تخلیق کے دفتر میں شاعرات اور خواتین افسانہ نگاروں میں گھرےرہتے۔کسی کو معلوم نہیں تھا "سونان اظہر" نام کا ایک بیٹا ان کے مرنے کے بعد ”تخلیق“ کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
وزیر آغا :
جب تک وزیر آغا زندہ رہے، ان کے سہ ماہی ادبی مجلے”اوراق“ کی اشاعت میں تعطل نہیں آیا۔ حالات کیسے بھی رہے، دیر سویر سے یہ رسالہ شایع ہوتا رہا۔ اُن کے مرنے کے بعد اگر چہ سلیم آغا قزلباش، ان کے اکلوتے بیٹے ایک پڑھے لکھے اور معروف انشائیہ نگار و افسانہ نگار تھے، مگر وہ ”اوراق“ کی اشاعت کو جاری نہ رکھ پائے۔سنہ 2019ء میں سلیم قزلباش بھی انتقال کرگئے۔ وزیر آغا کی ایک صاحب زادی بھی ہیں جو والد کی زندگی ہی میں شوہر کے انتقال کے بعد ان کی زیر کفالت آ گئیں تھیں۔
علامہ محمد اقبال:
علامہ اقبال کی تین شادیاں ہوئی تھیں.پہلی بیگم کریم بی بی سے اقبال کے ایک بیٹے آفتاب اور بیٹی معراج تھے۔ بیٹی انیس برس کی عمر میں وفات پاگئی تھی۔ بیٹے آفتاب کی نافرمانیوں کے باعٹ اقبال اس سے ناراض رہے۔اگرچہ زندگی کے اختتام تک اقبال نے بیٹے کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی ۔دوسری شادی مختار بیگم اور بعد ازاں تیسری شادی سردار بیگم سے انجام پائی۔ مختار بیگم بچے کی پیدائش کے وقت گزر گئیں۔ سردار بیگم سے اقبال کے دو بچے ایک بیٹے جاوید اقبال اور بیٹی منیرہ تھے۔فرزندِ اقبال، ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال، ممتاز قانون دان ، محقق اور فلاسفر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔
احمد ندیم قاسمی:
قاسمی صاحب کی اپنی دو سگی بیٹیاں تھیں جن میں سے ایک انتقال کرچکی ہیں۔ایک خاتون منصورہ بی بی کو انھوں نے منہ بولی بیٹی کا درجہ دیا تھا۔ایک اکلوتے بیٹے نعمان قاسمی ہیں جو احمد ندیم قاسمی کے اپنے بنائے ہوئے مکان میں بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ اس گھر میں احمد ندیم قاسمی نے زندگی کے آخری ایام بھی گزارے۔
قاسمی صاحب کا سہ ماہی ادبی مجلہ”فنون“ اُن کی زندگی میں اُن کی منہ بولی بیٹی منصورہ احمد کی ادارت میں شائع ہوتا رہااور احمد ندیم قاسمی صاحب نے منصورہ احمد کی تربیت میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ان برسوں میں ناہید قاسمی سوائے چند نظموں کی اشاعت کے، "فنون" یا احمد ندیم قاسمی صاحب کی زندگی میں بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔وہ ایک استاد رہی ہیں اور انہوں نے ناصر کاظمی پر اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی مگر احمد ندیم قاسمی صاحب کے انتقال کے بعد وہ نہایت کامیابی کے ساتھ ”فنون“ کی اشاعت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے سنگ میل پبلی کیشنز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔
فیض احمد فیض:
فیض کے انتقال کے بعد ان کی بیٹیاں سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی فیض صاحب کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں نمایاں طور پر شریک ہونے لگیں۔ منیزہ ہاشمی پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سے جنرل مینجر لاہور کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے بہت سی ڈاکومینٹریاں بنائیں۔ فیض صاحب کی زندگی میں باپ اور بیٹیوں کے درمیان تعلق کی تفصیلات کہیں نہیں ملتیں مگر ان کے انتقال کے بعد جب چند برس پہلے صد سالہ جشن فیض کی تقریبات ہوئیں تو کئی گوشے بے نقاب ہوئے جس سے فیض صاحب کے اپنی بیٹیوں کے ساتھ تعلق پر روشنی پڑی۔
عبداللہ حسین:
ان کی زندگی میں کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ اُن کی کوئی اولاد ہے مگر اُن کی برسی کی تقریبات میں اُن کی بیٹی نورؔ کی شرکت سے معلوم ہوا کہ ان کی ایک بیٹی بھی تھی۔ان کے بیٹے دیار غیر میں بستے ہیں اور ان کے بارے میں کچھ علم نہیں۔
اشفاق احمد اور بانو قدسیہ:
اس مقبول جوڑی کے تین بیٹے ہیں۔ انیس احمد خان کسی ایگزیکٹو عہدے پر ہیں۔ اثیر احمد خان ماڈل ٹاؤن میں اپنے آبائی گھر میں آج کل ماہانہ ادبی پروگرام کرواتے ہیں۔
ابن انشاء:
ابن انشا کی پہلی شادی 1941 میں لدھیانہ میں عزیزہ بی بی سے ہوئی تھی، عزیزہ بی بی سے ابن انشا کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔ بعد ازاں گھریلو ناچاکی اور دونوں کی طبیعت میں فرق کے سبب عزیزہ بی بی اورابن انشا میں علیحدگی ہو گئی، مگر طلاق نہ ہوئی.مگر ان لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھا۔اپنے تین بچوں عبدالستار، محمد انوار اور اپنی بیٹی راحت بانو کو بھی وہ محبت اور پدرانہ شفقت مہیا نہ کی جس کے وہ ہر لحاظ سے مستحق تھے۔
1969 میں انہوں نے دوسری شادی کی۔ دوسری بیگم کا نام شکیلہ تھا دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے سعدی اور رومی پیدا ہوئے۔کسی حد تک یہ پسند کی شادی تھی۔
سعدی انشا کارپوریٹ ٹرینر اور موٹیویشنل اسپیکر کی پہچان رکھتے ہیں جب کہ رومی انشا فری لانس پرڈیوسر کے بطور کام کرتے تھے۔ مختلف ٹی وی سیریلز کے لیے ان کا کام جانا جاتا ہے۔ اکتوبر سنہ 2017ء میں رومی انشا دل کے جان لیوا حملے کے باعٹ اچانک انتقال کرگئے۔ان کی والدہ ٹھیک ایک ماہ پہلے ہی وفات پاچکی تھیں۔
ناصر کاظمی:
ناصر کاظمی کے دو بیٹے ہیں، حسن کاظمی لاہور میں ہوتے ہیں جب کہ باصر سلطان کاظمی انگلینڈ میں، اور اپنے والد کے شعری مزاج کو ورثہ بنا کر اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
احمد راہی:
معروف شاعر اور گیت نگار کے ایک بیٹے بیوٹیشن ہیں۔ وہ نجی ٹیلی ویژن میں میک اپ مین کی خدمات بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ احمد راہی کے حوالے سے اکادمی ادبیات لاہور کی ایک تقریب میں اُن کی بیگم صاحبہ نے احمد راہی کے ساتھ اپنے عشق اور جھگڑوں کی کہانیاں سنا کر سامعین کو حیران کر دیا۔
حبیب جالب:
مزاحمتی شاعر حبیب جالب کے ایک بیٹے چند برس پہلے مرغی کے گوشت کی دکان پر کام کرتے تھےحبیب جالب مرحوم کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب اپنا گھر چلانے کے لیے لاہور میں نجی ٹیکسی سروس کی کیپٹن کے طور پر کام کررہی ہیں۔ مالی حالات ان کے بھی مستحکم نہیں ہیں۔آٹھ بہن بھائیوں میں طاہرہ کا نمبر پانچواں ہے۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ بھائی انور اور ناصر صاحب استطاعت ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ الگ رہ رہے ہیں، 26 سال کا عرصہ گزر گیا،انہیں ہماری کوئی فکر نہیں۔فکر جالب فاؤنڈیشن‘ کی بانی طاہرہ حبیب نے بتایا کہ اس فاؤنڈیشن کے تحت وہ جالب کے پروگرام منعقد کرواتی ہیں۔
قتیل شفائی:
اُن کے تین بیٹے پرویز، تنویر اور نوید جب کہ دو بیٹیاں مسرت اور ثمینہ ہیں۔
ان کے بیٹے نوید قتیل نوید قتیل، کسٹم ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ یہ شاعر تو نہیں البتہ انہیں گائیکی کا شوق ہے۔ بعض محفلوں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔۔ قتیل صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی گلاسگو (سکاٹ لینڈ) میں مقیم ہیں۔ نوید قتیل کی تین بیٹیاں ہیں جو شادی شدہ ہیں۔ قتیل صاحب والے مکان میں وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ مقیم ہیں۔ قتیل شفائی کی آپ بیتی ’’گھنگھرو ٹوٹ گئے‘‘ وفات کے چھ سال بعد شائع ہوئی تھی جس کا اہتمام نوید قتیل نے کیا۔ ابتدائیہ ان کے فرزند نوید نے لکھا۔
ظفر اقبال:
معروف شاعر اور کالم نگار ظفر اقبال کے بیٹے آفتاب اقبال آج کل ”خبردار“ کے نام سے ٹیلی ویژن پروگرام کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ”حسب حال“ اور بعد میں ”خبرناک“ کے نام سے ٹیلی ویژن پروگرام کیے جنہیں بہت مقبولیت ملی۔ان کی۔ہوتی عائشہ نور اقبال بھی نیوز چینل ہر نیوزاینکر رہ چکی ہے۔
انور مسعود:
معروف مزاحیہ شاعر انور مسعود اردو اور فارسی زبان کے نمایاں شاعر مگر اب اُن کی پہچان محض مزاحیہ شاعری رہ گئی ہے، آپ کے پانچ بچے ہیں تین بیٹے اور دو بیٹیاں۔ ان کے بیٹا عمار مسعود کالم نگار ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن پر ”رات گئے“ پروگرام کے میزبان ہے، جہاں وہ ادیبوں اور شاعروں کے انٹرویو کرتے ہیں۔ لینا Lina حاشر بلاگس لکھتی ہیں۔
کشور ناہید:
معروف شاعرہ اور کالم نگارکشور ناہید کے دونوں بیٹے امریکہ میں ہوتے ہیں۔ بچوں کے اصرار کے باوجود ان کے پاس مستقل رہنے کو تیار نہیں ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ:
کالم نگار، ناول و سفر نامہ نگارمستنصر حسین تارڑ کے ایک بیٹے آرکیٹیکٹ تھے، اب دونوں بیٹے سی ایس ایس کرنے کے بعد بیوروکریسی میں ہیں۔ایک بیٹے، سلجوق تارڑ اس وقت ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر ہیں۔بیٹی امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔
احمد فراز:
۔احمد فراز کے تین بیٹے ہیں، ان کے بڑے بیٹے سعدی فراز نے فوجی پیشہ کا انتخاب کیا- انھیں بھی شعر و شاعری سے خاصا شغف ہے،ان کے دوسرے بیٹے شبلی فراز ایک بڑی سیاسی جماعت کے سرکردہ رہنما کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کے تیسرے بیٹے سرمد فراز یونیورسٹی آف ایڈن برگ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ سرمد فراز ایک پرجوش موسیقار اور پیشے کے لحاظ سے مارکیٹر ہیں۔ وہ ہمیشہ سے تخلیقی سرگرمیوں کا شوق رکھتے ہیں۔احمد فراز کی اہلیہ چھوٹے بیٹے کے ہمراہ رہتی ہیں۔
انیس ناگی:
انیس ناگی جو خود نقاد، ناول نگار اور بیوروکریٹ تھے، ان کا بیٹا ڈاکٹر دانیال انیس شوکت خانم میں کینسر اسپیشلسٹ Oncologist ہے۔
عطا الحق قاسمی:
عطاالحق قاسمی کے تین بیٹے ہیں، یاسر پیر زادہ بیوروکریٹ اور کالم نگار ہیں۔ ڈاکٹر علی عثمان قاسمیLUMS میں پڑھاتے ہیں، علی عثمان نے کچھ افسانے بھی لکھے جب کہ تیسرے بیٹے عمر قاسمی بھی بیوروکریٹ ہیں۔
امجد اسلام امجد:
امجد اسلام امجد کے ایک بیٹے ذیشان امجد شاعر بھی ہیں اور انھوں نے والد کی معاونت سے ایک پروڈکشن سٹوڈیو کھول رکھا ہے۔
سر سید احمد خان:
سر سید کی شادی پارسا بیگم سے ہوئی جن سے ایک بیٹی عزیز النساء زوجہ محمود حسن اور دو بیٹے سید حامد اور سید محمود تولد ہوئے . سید حامد کی صرف دختری اولاد باقی رہی. سید محمود کا ایک بیٹا سید راس مسعود تھا جس کے دو بیٹے سید انور مسعود اور سید اکبر مسعود تھے . سید راس مسعود پاکستان تمباکو کمپنی میں سینیئر ڈائریکٹر تھے ان کے دو بیٹے سید احمد مسعود جو سوئی گیس میں عہدیدار ہیں اور سید محمود مسعود ہیں.
جون ایلیا:
جون ایلیا کے تین بچے ہیں، دو بیٹیاں فینانہ فیرنام اور سحینا جبکہ ایک بیٹا زریون
بڑی بیٹی فینانہ فرنام نے کچھ چیزیں لکھیں بھی۔ ٹی وی پر بھی کام کیا اور پی ٹی وی کے ٹاک شوز کو اینکر کیا۔زیادہ تر سنجیدہ نوعیت کے موضوعات پر لکھا۔
چھوٹی بیٹی سہائینا نے بھی پی ٹی وی کے لئے سنجیدہ پروگرام کو تیار کیا۔ اگرچہ ان کا رجحان فائن آرٹس کی طرف ہے۔ اور انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم فل کیا ہے۔ سہائینا ایلیا فاطمہ جناح یونی ورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
ان کے بیٹے زریون کو انگریزی میں لکھنے سے زیادہ دلچسپی ہے۔ سائنسی موضوعات خاص طور پر ماحولیات کے مسائل پر لکھتے ہیں۔ بیٹا اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار سے وابستہ ہے۔
مشتاق احمد یوسفی:
دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، دونوں بیٹے ارشد یوسفی اور سروش یوسفی انجینئر جب کہ دونوں بیٹیاں رخسانہ اور سیما ڈاکٹر ہیں ۔ ارشد یوسفی الیکٹریکل انجینئر ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ امریکہ میں قیام پذیر ہیں ۔ جب کہ سروش یوسفی میکنیکل انجینئر ہیں اور کراچی میں مقیم ہیں، مشتاق احمد یوسفی اپنے آخری وقت میں ان کے ہمراہ تھے ۔ مشتاق احمد یوسفی کی بڑی بیٹی لیڈی ڈاکٹر رخسانہ مانچسٹر کے قریب ایک سرکاری ہسپتال میں ( MRCP ) اور ان کے شوہر وہاں، جزل فزیشن ہیں ۔ یہ لوگ وہیں مستقل اقامت پذیر ہیں ۔ ڈاکٹر سیما ماہر امراض جلد ( Skin Specialist ) ہیں اور کراچی ہی کے ایک ہسپتال میں Consultant ہیں ۔
پروین شاکر:
جب پروین شاکر ایک حادثے میں اچانک انتقال کر گئیں تو ان کے اکلوتے بیٹے مراد علی سولہ برس کے اور او لیول کے طالب علم تھے۔پروین شاکر کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا نیورو سرجن بنے۔ اگرچہ یہ خواہش تو پوری نہ ہو سکی مگر ان کے بیٹے نے ماسٹرز کمپیوٹر سائنس میں کیا اور سافٹ ویئر انجینئر بن گئے، وہ TESLA کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ یہ مشہور کمپنی ہے جو برقی گاڑی بناتی ہے۔
ابن صفی:
ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
ڈاکٹر ایثار احمد صفی – ڈاکٹر آف میڈیسن ایک ماہر امراض چشم تھے جو 3 جولائی 2005 میں انتقال کر گئے۔ وہ کسی ںیماری کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ایک انفیکشن جان لیوا ثابت ہوا۔
ابرار احمد صفی - سمندری انجینئرنگ پس منظر کے ساتھ مکینیکل انجینئر۔ امریکہ میں رہتے ہیں۔
احمد صفی - مکینیکل انجینئر۔
افتخار احمد صفی - الیکٹریکل انجینئر۔ ریاض، سعودی عرب میں رہتے ہیں۔
نزہت افروز، ثروت اسرار، اور محسنہ صفی تینوں بیٹیاں ہیں
اختر حسین جعفری:
معروف نظم نگار اختر حسین جعفری کا ایک بیٹے منظر حسین اختر وکیل تھے جو اب اسلام آباد میں FIA میں جج مقرر ہو چکے ہیں۔منظر حسین اختر شاعر بھی ہیں جب کہ دوسرے بیٹے امیر حسین جعفری ٹیلی ویژن کی ملازمت چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گئے۔ اور ان کی بیٹی بھی شاعرہ ہیں۔
جاں نثار اختر:
معروف شاعر مجاز لکھنوی کی ہمشیرہ صفیہ سراج الحق سے شادی کی ۔جن سے دو بیٹے جاوید اختر اور سلمان اختر ہیں جاوید اختر شاعر،نغمہ نگار، اسکرپٹ رائٹر ہیں جب کہ سلمان اختر پیشہ کے اعتبار سے ماہر نفسیات اور جزوقتی شاعر ہیں۔جاں نثار اختر نے دوسری شادی خدیجہ طلعت سے کی تھی،جن سے تین بچے شاہد اختر، عنیزہ اور البینہ ہیں۔ شاہد اختر لکھاری ہیں جب کہ عنیزہ صحافت کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں۔
فرحت عباس شاہ:
فرحت عباس شاہ کا ایک بیٹا سمیر عباس شاہ گلوکار ہے جب کہ دوسرا بیٹا باڈی بلڈنگ اور بریک ڈانس میں مہارت رکھتا ہے۔ جب کہ بیٹی لاھور ٹی وی پر کمپئیرنگ کرتی ھے۔
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے دو بیٹے ہیں، ایک انگلینڈ میں اور دوسرا امریکہ میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ۔دونوں نے امریکہ کی یونیورسٹیوں سے ایم بی اے کرنے کے بعد ملازمت اختیار کی۔
خورشید رضوی کے ایک بیٹے عاصم خورشید سعودی عرب میں ہیں، وہ شاعر بھی ہیں اور ڈاکٹر بھی۔ جب کہ دوسرے بیٹا عامر خورشیدا انگلینڈ میں مقیم ہیں۔خورشید رضوی کے شعری مجموعوں کی اشاعت اُن کی بیگم اور بیٹے عامر خورشید کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
جمیل الدین عالی کے ایک بیٹے مراد جمیل آرکیٹیکٹ اور ایک بیٹا راجوجمیل انجمن ترقی اردو پاکستان کے صدر اور مشہور اداکار ہیں۔
محسن بھوپالی خود بھی انجنئیر تھے اور ان کا ایک بیٹا اور بیٹی انجنئیر ہیں۔ تین بیٹے سعودی عرب میں ہے۔
صہبا اختر کا بیٹا اعظم اختر انجنئیر، عظیم اختر ڈاکٹر ہے جب کہ بیٹیاں بھی ڈاکٹر ہیں۔
ڈاکٹر ابوالخیر کشفی کا بیٹا ابو احمد عاکف حج منسٹری میں گریڈ22 کا فیڈرل سیکرٹری ہے۔
سلیم کوثر کا بیٹا آغا خان ہسپتال کراچی میں ڈاکٹر ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کا بیٹا آصف فرخی ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے مگر علمی و ادبی کاموں کے حوالے سے آکسفورڈ کراچی اور ڈان اخبار سے وابستہ رہے۔ مترجم بھی تھے اور افسانہ نگار بھی۔
انور شعور کی ایک بیٹی شائستہ مومن آرٹسٹ ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
سب رنگ ڈائجسٹ کے ایڈیٹر شکیل عادل زادہ کا بیٹا بینکنگ کے شعبہ میں ہے اور کینیڈا میں مقیم ہے۔ ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں۔
ایک اجمالی جائزے کے بعد کچھ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو دلچسپ بھی ہیں۔ عام طور پر اگر والد انجنئیر یا ڈاکٹر ہو تو اولاد میں غالب رحجان اسی پروفیشن کی ڈگری حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔ اگر والد بیوروکریٹ ہو تو بچے بھی اسی جانب جا نکلتے ہیں۔مگر ادیبوں شاعروں میں بہت کم ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ والد کی شاعری سے متاثر ہو کر بچوں نے شاعری شروع کر دی ہویا افسانہ نگار بن گئے ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ شاعری و ادب گھروں میں وجہ عزت نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ادیب شاعر اپنے بچوں کو علمی و ادبی حلقوں اور دوستوں سے دور رکھتے ہیں۔ شاعروں ادیبوں کی بیویاں گلوں شکووں سے بھری ملتی ہیں اور بچوں کو باپ سے دور رکھتی ہیں۔ اگر بچے عملی زندگی میں پڑھ لکھ گئے ہیں تو اس کا تمام کریڈٹ والدہ کو جاتا ہے۔ والدہ کے سامنے اس کے شاعر ادیب میاں نے اپنی زندگی ادب کے نام پر برباد کی ہوتی ہے۔ اس لئے علمی و ادبی گھرانے کا تصور ہمارے ہاں پروان نہیں چڑھ سکا۔دیکھا جائے تو کوئی بھی شاعر ادیب ایسا نہیں ہے کہ جس کے بچوں نے شاعری یا ادب میں کوئی نمایاں نام کمایا ہو۔البتہ ان معروف شاعروں اور ادیبوں کے والدین میں کچھ مثالیں ایسی مل جاتی ہیں کہ جنہوں نے اپنے بچوں میں علم و ادب سے محبت پیدا کی، مگر زیادہ تر ادیب شاعر ورثے میں اپنے بچوں کو علم و ادب سے محبت نہ دے سکے۔ہمارے ہاں ادب کے زوال کی غالباً سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ معاشرے یا حکومت کا ادیبوں کی سرپرستی نہ کرنے کا مرحلہ تو بہت بعد میں آتا ہے، عزت و توقیر کی بات تو پہلے گھر سے شروع ہوتی ہے۔
(ڈاکٹر شہزاد غافر کے اخباری فیچر ، تنویر ظہور کے اخباری کالم اور مختلف ویب سائٹ سے یہ پوسٹ مرتب کی گئی ہے)
0 تبصرے