از قلم : فرنود رومی، مالیگاؤں
مؤرّخہ 2 مارچ، 2025 کو دلِ درد مند رکھنے والے مالیگاؤں کے ہمارے دوست غفور دلبر پھلی والا نے واٹسپ میسیج کیا۔
"بڑے افسوس کے ساتھ بتلا رہا ہوں کہ آج ہمارے اسکول کےدوست نے خود کشی کر لی ہے۔"
یہ روح فرسا خبر دے کر وہ کہنے لگے کہ اس سب کی عام وجہ معاشی حالات کا ٹھیک نہ ہونا ہے۔ جس کے سبب بندہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔اور غلط قدم اٹھانے کا سوچ لیتا ہے۔
آگے وہ لکھتے ہیں،
"ایک زمانے میں میرے بھی گھریلو حالات انتہائی خراب ہوگئے تھے۔ میں اپنے مکان سے کرائے کے گھر میں آگیا تھا اور انتہائی تنگدستی میں گزران کر رہا تھا۔
جب میری بہن (جو ایک ماں کی طرح ہمارا خیال کرتی تھیں) کو پتہ چلا تو انہوں نے مجھے ممبئی میں ایک جگہ نوکری دلوادی۔ میں نے شب و روز محنت کی۔ کسی بھی موڑ پر ہمت نہیں ہاری اور نتیجتاً آج اپنے ذاتی مکان میں رہ رہا ہوں۔"
آج 13 مارچ، 2025 کو ان کا دوبارہ میسیج آتا ہے۔
" آج ہمارے بھتیجے نے گھریلو حالات کے چلتے خودکشی کرلی ہے"
ہمارے ذہن میں ان کا 2 مارچ والا میسیج ابھر کر آتا ہے۔ یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے ہمارے شہر میں اور وہ بھی اس ماہِ مقدس میں...
اور آج ہی کے دن شہر کے جنوبی حصے کے ایک پسماندہ علاقے میں بھی کسی شخص کی خودکشی کی اطلاع ملی ہے۔ یعنی آج کے دن دو خودکشی کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ افسوس کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اب تک کل ملا کر دس لوگ خودکشی کر چکے ہیں اور کامن وجہ معاشی تنگی یا گھریلو مسائل ہی بتائی گئی۔
اس ضمن میں چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔
اس بات سے شاید ہی کوئی انکار کرے کہ ہمارے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ دین سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس تیز رفتار دور میں ہر کوئی مختلف مسائل کو لے کر ذہنی تناؤ اور الجھن کا شکار ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ذہنی سکون کو پانے کی غرض سے meditation کے طور پر پنج وقتہ طہارت و عبادت کا سہارا لینا چاہیے، تاکہ روحانی سکون میسر ہو۔ اسی طرح ایسے کچھ اچھے دوست بھی رکھنے چاہئیں جو اچھے برے وقت میں support system کا کام کر سکیں۔
جمعہ کے بیانات (خطبوں) میں ان سماجی و معاشرتی پہلوؤں پر خطباء سیر حاصل گفتگو کریں۔اور ان مسائل سے نمٹنے کا حل بتایا جائے۔ غیر ضروری تفرقہ بازی سے بچا جائے۔ عملی اقدامات کرنے پر زور دیا جائے۔
دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے عطیات اور زکوۃ کا زیادہ تر یا پورا حصہ صرف مسجدوں اور مدرسوں کو جا رہا ہے۔ جب کہ اس کا کچھ حصہ ہمیں مستحقین کو اپنے ہاتھوں سے دینا اور ان تک پہنچانا چاہیے۔
جن (صاحب نصاب) لوگوں پر زکوۃ فرض ہے وہ سب سے پہلے اپنے قریبی لوگوں یعنی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو زکوۃ دیں۔
اعدادو شمار کے مطابق ہندوستان بھر سے ہر سال کئی سو کروڑ زکوۃ نکلتی ہے، اور اگر وہ صحیح طور سے مستحقین تک پہنچ جائے تو ایک بھی مسلمان بھیک مانگنے والا باقی نہیں رہے گا بلکہ بچے ہوئے پیسوں سے ہم غیر مسلموں کی بھی امداد کرسکیں گے۔
پیشہ ور بھکاریوں کو پیسے دینے اور ان کی ہمت افزائی کرنے کے بجائے ضرورت مندوں کو پانچ چھ ہزار روپے سے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر کے دے دیں۔
زکوۃ دینے سے قبل مستحقین کی ایک لسٹ سال بھر میں بنا کر رکھیں اور انہیں خود جا کر اپنی زکوۃ ادا کر دیں۔ساری کی ساری زکوۃ، صدقہ و عطیات مسجدوں اور مدرسوں میں نہ دے دیں، وگرنہ معاشرے کے دیگر مستحقین محروم رہ جائیں گے۔
مسجدوں میں کمیونٹی سینٹرس بنائے جائیں اور ہمارے محلوں میں موجود غربا ء و مساکین کے کی تعداد اور ان کے حالات پر نظر رکھی جائے اور وقتاً فوقتاً ان مقاصد کے لیے بیت المال کا فنڈ استعمال کیا جائے۔
1. شادی بیاہ
2. علاج و معالجہ
3. قرض کی ادائیگی
4. کسی حادثے کی صورت میں گھر کی ریپیئرنگ
5۔ رمضان کٹ
6۔ چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے لیے بلا سودی قرض کی فراہمی
یہ چند مشورے ہیں، جو ابھی ذہن میں آئے تو ہم نے فوراً سپرد قلم و قرطاس کردیا۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت ساری چیزیں کرنے کی ہیں، جن کی بابت آئندہ کسی موقع پر لکھاجائےگا ان شاء اللہ۔ آپ کے ذہن میں بھی کچھ مفید مشورے آرہے ہوں تو کمنٹ کی صورت میں ہمارے ساتھ ضرور شیئر کیجیے گا۔
یار زندہ صحبت باقی۔
[14 مارچ، 2025]
0 تبصرے