ایک موڈرن فیملی اپنی قیمتی کار میں کہیں جارہی تھی۔ راستے میں ایک گندی بستی کے پاس سے ان کا گزر ہوا.
جابجا گندگی کا ڈھیر ، راستے میں بکھرے کچرے، گڑھوں سے بھرےرستے، گندےاور مزدور پیشہ مرد و عورتوں کا ہجوم، سر راہ سامان رکھ کر آواز دیتے ہوئے، خرید و فروخت کرتے ہوئے افراد..یہ منظر دیکھ کر گاڑی میں بیٹھے لڑکے نے اپنے ڈیڈ سے پوچھا،
"ڈیڈ یہ ہم مسلمانوں کے علاقےمیں کیوں آئے ہیں؟" اس لڑکے کی ماں کو بڑاتعجب ہوا کہ وہ اس علاقہ میں پہلی دفعہ آئے تھے، پھر بچےنے کیسے پہچان لیا۔پوچھا تو لڑکے نے بتایا کہ "اسکول کے بچوں میں باتیں کرتے وقت اس کو اس بات کا علم ہوگیا تھا کہ مسلمان سب سے گندے ہوتے ہیں۔ ان گندگیوں کو صاف کرنے والے مہتر اور خاکروب کی کالونیاں بھی ان مسلمانوں کی کالونیوں سے زیادہ صاف ستھری ہوتی ہیں۔
سننے میں یہ اسٹوری بھلےفرضی معلوم ہوتی ہو، تاہم یہی حقیقت حال ہے۔کچھ لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ مسلم علاقوں میں خصوصاََ صاف صفائی اتنی نہیں کروائی جاتی تاکہ صاف صفائی کے معاملہ میں یہ قوم اجتماعی طور پر بدنام رہے۔
لیکن معاف کیجئے گا، ہمارے گند بھرے ماحول کے لئے ہماراصرف اغیار ہی کو الزام دینا بیجا ہوگا ۔
گجرات کی مسلم دشمن سرکار، ہر جگہ تو نہیں ہے کہ ان کے اشاروں پرشہر بھر کا کچرا لاکر مسلم علاقوں میں ڈمپ کیا جاتا ہو تاکہ مسلمانوں کو ان کچروں کا عادی بنایا جائے اور اسی کچرے میں اپنی روزی روٹی تلاش کرنے میں مسلمان بچے تعلیم کے زیور سے محروم رہ جائیں اور گندگی کے لئے مسلمانوں کو بدنام بھی کیا جاسکے۔ اگر ایسی بات ہے تو نوے پچانوے فیصد مسلم اکثریتی ممالک مثلاً پاکستان اور بنگلہ دیش کے اکثر علاقوں میں گندگیوں کے ڈھیر پڑے نہیں رہتے۔
دراصل ہم مسلمانوں نے اپنے اسلاف کی طہارت و پاکیزگی والی عادت کوچھوڑ دیا ہے۔ 1400 سال قبل اسلامی انقلاب آنے سے پہلے تک اس وقت کی ترقی یافتہ قوم یہود دیا نصاری کو ٹھیک سے کپڑا پہننے اور روزانہ غسل کا طریقہ تک نہ آتا تھا۔ کئی کئی دن تک نہاتے نہیں تھے ،اس پر مستزاد یہ کہ عطر و اسپرے چھڑک کر معطر اور صاف ستھرا ہونے کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا۔صفائی ستھرائی کا پاٹھ تو مسلمانوں نے انہیں دیا تھا، ورنہ اس وقت کی ترقی یافتہ قوم نہانے تک کی عادت سے یکسرماورا تھی۔ ہندو قوم تو ایک عدد کپڑا نیچے کی طرف لپیٹنے اور بقیہ جسم کو ننگا رکھنے کی روایت کو مذہبی رنگ دیے اپنائے ہوئی تھی ۔ راکھ ،رنگ و روغن کو اپنی پیشانیوں اور سینہ و بدن پر مل کر سر راہ نصف ننگا گھوما کرتی تھی۔ پائجامہ کرتا پہننا تو انہیں مسلمانوں نے سکھایا تھا ۔
آج المیہ یہ ہے کہ ہمارے اسلاف کی تمام اچھی عادتوں کو ہم سے اغیار نے لےلیا ہے اور ہم مسلمانوں نے اغیار سے تمام برائیاں مثلاً جھوٹ، مکرو فریب ،گندگی اور دھوکہ دہی اپنے اندر اپنا لی ہیں۔
فی زماننا ترقی یافتہ قوم جاپانیوں میں بہت سے ایسے اقدار ملتے ہیں جن کے بدولت انہوں نے اپنی کم مائیگی کے باوجود نقشہ عالم پر اپنی ایک چھاپ چھوڑ رکھی ہے۔ جسکا مشاہدہ کل عالم نے سابقہ دنوں میں آئے سونامی کے دنوں میں کیا ہے ۔
ان دنوں جب جاپانی دانہ دانہ کھانے کےمحتاج تھے، جاپان میں سوپر مارکیٹوں اور سبزی کی دکانوں پر لوٹ مار دیکھنے تک کو نہیں ملی تھی۔ اور جاپانیوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے پایا گیا تھا ۔ لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ مال خرید کر ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے نہیں پائے گئے تھے ، بلکہ وقتی طور کنگال لوگوں کے لئے سوپر مارکیٹ والوں نے فری کا بورڈ لگاکر غیرت والوں کو بھیک مانگنے کے مواقع سے بھی محروم کر دیا تھا ۔ اور ضرورت مند، فری اموال کو بھی اپنی وقتی ضرورت سے زیادہ نہ لے جاکر، دوسروں کے استفادے کے لئے ان اشیاء کو چھوڑ دیتے تھے۔
ان کے انہی اوصاف میں سے ایک وصف اپنے کم سن بچوں کے نازک اذہان کو صفائی ستھرائی کا پاٹھ پڑھانے کا طریقہ ہے۔ مال و زر کی اتنی فراوانی ہونےکے باوجود بعض ابتدائی مدرسوں اور مکاتب میں صفائی ملازم نہیں رکھے جاتے ہیں ۔اور اسکول پریمائسیز کو صاف ستھرا رکھنے کا ہنر ننھے بچوں سے صفائی کرواکر انہیں دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ بچہ اسکول میں رہتے ہوئےاپنے ہاتھوں سے اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا عادی ہوجاتا ہے تو مستقبل میں ہمیشہ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی جستجو کرتا ہوا پایا جاتا ہے ۔
ہمارے نبی آخر الزماں نے اچھے اعمال کو اغیار سے کیا شیطان سے بھی لینے کا درس ہمیں دیا ہے۔ بچوں میں صاف ستھرائی کے درس کو ذہن نشین کروانے کا یہ عمل مسلم مدارس و مکاتب میں ہم کب شروع کرتے ہیں، یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔ وماعلینا الا البلاغ
0 تبصرے