سوشل میڈیا اور ہم ۔ ایک جائزہ

ہمارے معاشرتی نظام میں مثبت تبدیلیاں ہمیشہ کسی بڑی تحریک کا نتیجہ رہی ہیں۔ ان تحریکوں کا آغاز تو کسی مفکر کے آفاقی خیالات سے ہوتاہے لیکن اُسے انجام تک پہنچانے کیلئے عوامی لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مفکر اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرکے ایک نظریہ قائم کرتا ہے اور لیڈر اُس نظریہ کو معاشرے میں رائج کرتا ہے ۔ ایسے اجتماعی عملی اقدامات ہی کسی معاشرے میں تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
مفکر اور لیڈر کی شخصیت میں کچھ واضح فرق ہوتا ہےجوکہ قابل غور ہے...
مفکر کا نظریہ آفاقی ہوتا ہے لیکن عوامی سطح پر لیڈرکسی مخصوص طبقہ، افراد اور علاقے کا ہی خیر خواہ ہوتا ہے۔ مفکر اپنی محدود ضرورتوں کے ساتھ بالکل سادہ زندگی گزارتا ہے لیکن لیڈر کو اپنی طاقت، مقبولیت اورساکھ بنانے کیلئے کوشش کرنا پڑتا ہے۔
مفکر کا مزاج تنہائی پسند اور گوشہ نشینی کا ہوتا ہے لیکن لیڈر کو مجلسی مزاج رکھنا پڑتا ہے اور شہرت اس کی کامیابی کیلئے ضروت کا درجہ رکھتی ہے۔ مفکر قناعت پسند ہوتا ہے لیکن لیڈر کو عوامی سطح پرکسی نظریہ کا نفاذ کرنے کیلئے خطیر رقم خرچ کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے معاشرے کے یہ دونوں کردار جب تک اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے رہتے ہیں معاشرہ اور شہر ترقی کی جانب گامزن رہتا ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں سماجی رابطے کے ایک نئے دور کی شروعات ہوئی جس کے ذریعے سماج میں مثبت تبدیلیاں لانے کیلئے چند افراد نے مختلف تحریکیں چلانے کا عزم کیا.
مختلف شہروں میں تبدیلیوں کی منتظر عوام میں یہ تحریکیں بہت جلد مقبول بھی ہو گئیں اور یکے بعد دیگرے ہزاروں گروپ وجود میں آنا شروع ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ...
مسائل کی شروعات اس وقت ہوئی جب سوشل میڈیا کے ذریعے سماجی تحریکیں چلانے والے بیشتر ایڈمن حضرات نے بیک وقت مفکر اور لیڈر دونوں کا کردارادا کرنا شروع کیا اور وہ دونوں ہی کرداروں میں وہ ناکام ثابت ہوئے۔
نہ تو وہ مفکروں والی گوشہ نشینی اختیار کر سکے کہ وہ قرار واقعی سماج کی بھلائی کیلئے یکسوئی کے ساتھ کچھ سوچتے اور نہ ہی وہ لیڈروں کی طرح زمین پر آکر کوئی عملی کام کے ذریعے عوام میں وہ مقبولیت حاصل کر سکے جس کی اُس سماجی تحریک کو ضرورت تھی۔
لائحہ ء عمل کی اس غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب اچھے اور اصلاحی مقاصد کیلئے بنائے گئے بیشتر گروپس میں بھی اب محض سیاست، حادثات اور واقعات پر تبصرہ کرنے، اپنے مسلک کی بالادستی ثابت کرنے، لطائف و طنز و مزاح کے میسجس فارورڈ کرنے اور وہاٹس اپ کی پوسٹ ایکس چینج کرنے میں ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے..
سماجی رابطے کے اس نئے طریقے نے ہمارے حالات تو نہیں بدلے لیکن یہ ہماری سماجی اقدار اور طرز فکر میں منفی تبدیلیاں پیدا کرنے میں کامیاب رہا.مثلاً...
اس کی بدولت "علم" کی اہمیت روز بروز کم ہوتی جارہی ہے. پہلے "علم" صرف تجربے، مطالعے اور شاگردی کی مشقت اُٹھانے کے بعد "حاصل" ہوتا تھا.لیکن اب پوسٹ کی شکل میں سوشل میڈیا پر جب جتنا جیسا چاہو "مل" جاتا ہے.
پہلے طالب علمِ "علم" کیلئے لمبے لمبے سفر کرتا تھا. اب علم انسان تک پہنچنے کیلئے میسج کی شکل میں لمبے لمبے سفر کرنے لگا ہے.
ہہلے علم سکھانے یا درس و تدریس کیلئے عقل سلیم اور صلاحیت شرط تھی. اب ہمارے کسی اچھے گروپ میں شامل ہوجانا کافی ہے. (جہاں کی پوسٹ فارورڈ کرکے سب گروپوں میں اپنی بقراطی جھاڑ سکیں)
پہلے سیکھنے اور علم حاصل کرنے کی فکر ہوتی تھی.اب سیکھنے سے زیادہ سکھانے اور علم حاصل کرنے سے ذیادہ دوسروں کو بھیجنے یعنی شیئر کرنے میں دلچسپی لی جاتی ہے.
پہلے علم ہماری "اصلاح" کا ذریعہ ہوا کرتا تھا. اب یہ صرف " اطلاع " کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے. پہلے علم "خود احتسابی" کا ذریعہ ہوتا تھا. لیکن اب تو علم خود " بے حسابی" کا شکار ہو گیا ہے.
از قلم  : شہباز بخت

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے