بھائی اپنی بہن کو لے کر کسی عزیز کے گھر جا رہا تھا۔ بہن نے برقع پہنا ہوا تھا لیکن بائیک پہ بیٹھتے ہوئے برقع نہیں سمیٹا۔
بائیک چلی تو رستے میں برقع بائیک کے پچھلے پہیے میں آ گیا۔ بائیک ایک طرف گری تو بہن دوسری طرف ، بھائی ان دونوں سے تھوڑا دور سر کے بل زمین پہ آ گرا۔
ہمارے ہسپتال کے پاس گرے تھے تو لوگ اٹھا کر ہمارے پاس ہسپتال لے آئے ، بیرونی طور پہ جسم پہ معمولی چوٹیں ہی تھیں لیکن بھائی کے سر پہ کوئی گہری اندرونی چوٹ لگ گئی ہوئی تھی۔ وہ دیوانگی کے عالم میں سٹریچر پہ پڑا ادھر اُدھر ٹکریں مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کبھی نیم بیہوشی میں ہاتھ پاؤں چھڑا کر سٹریچر سے نیچے گرنے کی کوشش کرتا۔ ورکرز بڑی مشکل اور مضبوطی سے اسے پکڑے کھڑے تھے۔
بہن نے بھائی کی یہ حالت دیکھی تو کبھی اپنے سر میں تھپڑ مارنے لگتی ، کبھی اپنا پھٹا ہوا برقع مزید پھاڑنے لگتی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنا سر ہی کسی دیوار میں دے مارے۔
کچھ ہی دیر میں ان کے عزیزوں کا مجمع لگ گیا۔ گاڑی کا انتظام ہوتے ہی ان کو آگے ریفر کر دیا گیا کیوں کہ اسے فوری طور پہ کسی نیورو سرجن کی ضرورت تھی جو اس کی جان بچانے کی کوشش کرتا۔
یہ سارا واقعہ کل کا تھا اور آج صبح اٹھتے ہی پہلی خبر یہ ملی کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا۔
بات تو معمولی سی تھی کہ بائیک پہ بیٹھتے ہوئے بہن نے برقع کا دھیان نہیں رکھا۔ لیکن یہ معمولی سی بات ایک گھر اجاڑ گئی۔
اب وہ بہن ساری عمر برقع سمیٹتی بھی رہے تو کیا حاصل، اپنا سر منہ پیٹتی بھی رہے تو کیا حاصل؟
از قلم : ڈاکٹر نوید خالد
0 تبصرے