چلئے اب نماز اور قرآن پڑھنے والے روبوٹ بھی ہوگئے تیار

از قلم : نقاش نائطی
ہم مسلمانوں کو خوش ہونا چاہیے کہ کفار سائنس دانوں نے، ہم مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کردیا ہے ۔ ہم نے قرآن مجید کو متبرک کتاب مان کر، جزدانوں میں لپیٹ، گھر کے اوپری حصوں میں الماریوں کے اوپر رکھ دیا تھا۔ اتنی اوپر کہ بچوں کے ہاتھ تک پہنچ نہ پائیں.
قرآن مجید سے ہماری لاتعلقی پر ہمیں جھنجھوڑنے والا جو واقعہ کچھ دنوں پہلے سائبر میڈیا پر گردش کررہا تھا اسے یہاں دوبارہ پیش کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
ایک کلاس کے بچوں کے سامنے اسکول ٹیچر نے اپنی اسکول لائبریری کے لئے،ان کے گھروں میں نہ پڑھیں جانے والی، بیکار رکھ دی گئی کتابوں کو ھدیہ کرنے کی درخواست کیا کردی، کہ دوسرے دن ہی سبھی بچوں نے اپنے گھر نہ پڑھی جانے والی چند مخصوص کتابیں اٹھا لے آئیں اور حیرت انگیز اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کے سب قرآن مجید کے مختلف نسخے ہی تھے۔
جو کتاب مالک کائنات نے ہماری ھدایت و رہنمائی کے لئے ہم پر نازل کی تھی اور جس کے سمجھ کر،یا بنا سمجھے بھی پڑھنے پر جو انعام و اکرام دینے کے وعدے اللہ کے رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچے تھے اتنے پرومٹری اعلان کے باوجود، قرآن مجید پڑھنے میں ہماری کوتاہی دیکھ، اور نماز نہ پڑھنے کی اتنی وعیدیں آنے پر بھی،ہماری مسجدوں کے صفحہ دو صفحہ نمازیوں کو دیکھ، آج غیر مسلموں نے نماز و قرآن پڑھنے والے ان روبوٹ کو متعارف کروا، ہم مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ گویا حل کردیا ہے۔
محلے کی مسجدوں میں محض محلے کے چند عمر رسیدہ بوڑھوں ہی کی حاضری اور نوجوان نسل نمازیوں کے عنقا ہونے پر، صاحب حیثیت مسلم قوم آئندہ ایک آدھ روبوٹ گھر میں رکھ کر، ان کی جانب سے نماز وقرآن پڑھوا کر، اس عالم میں ہر سو نماز و قرآن پڑھنے کا عمل جاری و ساری تو رکھ پائیں گے۔ ہم مسلمان بھلے ہی نماز و قرآن نہ پڑھیں ہماری طرف سے ان غیر مسلموں کے ہاتھوں بنے یہ روبوٹ تو کم از کم اس دنیا میں نماز وقرآن کے پڑھنے کا عمل جاری و ساری رکھا کریں گے۔
تقریبا صد سال سے عالم بھر میں صوم و صلاة و مجالس اذکار،قائم کرنے کی مسلسل چلت پھرت محنت کے بعد، یہ خالی خولی پائی جانے والی مسجدیں، کیا ہمیں یہ احساس دلانے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ کہ ایمان کی مضبوطی کے بجائے اعمال کے قیام کے لئے کی جانے والی عالم بھر کی محنت، اسوء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق بھی ہورہی ہے یا نہیں؟ اس کا محاسبہ کیا جانا چاہیئے؟ علماء اہل سلف کی، کچھ سالوں کی محنت نے ان عربوں میں وحدانیت اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ ہزار اپنے اعمال کی خرابیوں کے باوجود، اپنے ایمانی جذبہ سے یہ عرب قوم اتنی سرشار ہے کہ ہم مشرقی مسلمان ان کے سامنے ھیچ تر نظر آتے ہیں.
وما علینا الا البلاغ!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے