از قلم : نقاش نائطی، بھٹکل
49 سالوں تک وشال بھارت پر لاشریک غیرے حکومت کرنے والا شہنشاہ ھندستان اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ
3 نومبر 1616 کو پیدا ہوئے اور اکھنڈ بھارت نرمان اپنے حربی مشن کے دوران مہاراشٹرا کے شہر احمد نگر میں بیماری میں مبتلا ہو کر، نوے سال کی عمر میں 3 مارچ 1707عیسوی کو آج ہی کے دن انتقال کیا تھا۔ وصیت کے مطابق انہیں خلد آباد میں دفن کیا گیا۔اور قبر کو کھلے آسمان کچی قبر کے طور ہی رکھا گیا۔
خلدآباد سے قریب ایک مقام ہے جس کا نام اورنگ آباد ہے، اورنگ آباد میں اورنگ زیب کی مختلف یادگاریں آج بھی محفوظ ہیں۔ وہ بڑے متقی، پرہیز گار ، مدبر اور اعلیٰ درجے کے منتظم تھے.
ان کے انتقال کے بعد ان کے ہاتھوں لکھی وصیت کے مطابق ان کی اپنی ذاتی کمائی کے 300 روپئے ان کے پاس سے برآمد ہوئے اور وصیت کے مطابق ان کے جنازے کے اخراجات شاہی خزانے سے خرچ کرنے کے بجائے، ان کی ذاتی کمائی سے خرچ ہوئے تھے اور وصیت ہی کے مطابق جنازے کے اخراجات کے بعد باقی رقم غرباء میں تقسیم کردی گئی تھی۔ اور قبر کو کھلے آسمان کچی ہی قبر کے طور رکھا گیا۔
شنہشاء ہندوستان اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے انتقال پر آج پورے 515 سال کا لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود، آدھا بھارت ان سے اپنی عقیدت و چاہت میں ہے تو آدھا سنگھی ذہن بھارت ان سے اپنی عداوت و دشمنی ہی کے سبب، انہیں یاد رکھنے پر مجبور ہے۔ دراصل انگریز مورخین نے بھارت پر اپنی فرنگی حکومت مضبوطی سے قائم رکھنے کی خاطر برہمنی سماج کو اپنے قریب کرتے ہوئے، مغل حکمرانوں کے خلاف ان کے کان بھرتے ہوئے،بھارت میں ھندو مسلم منافرت بھڑکاتے ہوئے، ھندو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑاتے ہوئے ان پر کامیابی سے حکومت کرنے کی سازش رچی تھی۔
بھلے ہی بھارت کے سنگھی ذہنیت ھندو شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر پر ھندو مندر توڑنے کا الزام لگائیں اور ان سے نفرت کریں لیکن موقر ھندو تاریخ دان کی لکھی تاریخ ہی کو مانیں تو آج کے بھارت واسیوں کو شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کا سدا ممنون و مشکور رہنا پڑے گا کہ مغلیہ دور سے پہلے بھارت کے انیک حصوں پر مختلف راجوں مہاراجوں، نوابوں سلطانوں کی بندر بانٹ حکومتیں ہوا کرتی تھیں اور ہر بادشاہ یا راجہ، اپنی سلطنت کی سرحدیں بڑھاتے رہنے کی تڑپ و چاہت میں، ایک دوسرے کی حکومتوں پر یلغار کرتے رہا کرتے تھے اور ان راجے مہاراجاؤں کی ہوس کا مارا ھندستان مختلف حصوں ٹکڑوں میں بٹا ایک دوسرے کے ہوس کا شکار بنا،ہمہ وقت بھارت کے کسی نہ کسی حصہ پر جنگ و جدال کا حرب زد ماحول سدا رہا کرتا تھا اور ہزاروں بھارتیہ جوان جنتا ان راجوں مہاراجاؤں کی ہوس کا شکار بنے اس دھرتی ماں پر ہمہ وقت قربان ہوتے رہا کرتےتھے۔ اور انکی عورتیں بیوہ بنتیں یا ستی ہوکر مرجایا کرتی تھیں یا زمانے کی ہوس کا شکار بنی زندہ لاش کی طرح رہنے پر مجبور رہتی تھیں۔
اکھنڈ بھارت کی شروعات ویسے تو شہنشاہ ھند اکبر کے زمانے سے ہوئی تھی لیکن شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے زمانے میں انکی 49 سالہ بادشاہت کے طویل عرصہ دوران، کشمیر سے کنیا کماری تک اور آسام سے گجرات کے ساحل تک برما نیپال بھوٹان سری لنکا بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت اپنے وقت کا سب سے بڑے وشال اکھنڈ بھارت نرمان کا سہرا شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ ہی کو جاتا ہے بلکہ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے زمانے میں اس وقت کے اکھنڈ بھارت میں عام عوام کو اعلی تعلیم دلوانے اور انہیں مختلف روزگار پر لگوانے کے خاطر خواہ انتظام کے ساتھ، جنگ و جدال سے ماورا، امن و سکون چین و آشتی والی پرامن فضاء میں، دیش واسی ھندو مسلم عوام مل جل کر دیش کی ترقی اور انتی کے لئے کام کیا کرتے تھے۔ اس لئے بھارت تجارت و صنعت میں اپنے اس وقت کے27 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ، عالم کا سب سے ترقی پزیر وشال ملک، سونے کی چڑیا کے طور پر مشہور تھا، شاید اسی نیک نامی کو سن کر، آدھے عالم پر اس وقت حکمرانی کرتے انگریزوں نے، بھارت پر حکومت کرنے ہی کی نیت سے، تجارتی وفد کے بہانے اپنے جاسوس بھارت بھیجے تھے اور دیش کے انیک حصوں کے راجاؤں مہاراجاؤں کو مغلیہ سلطنت کے خلاف بھڑکاتے ہوئے، انہیں اپنی حربی مدد کے سہارے بغاوت پر ابھارتے ہوئے مغلیہ حکومتوں کمزور تر کرتے ہوئے، بھارت پر اپنی فرنگی حکومت مضبوط کی تھی.
آج شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات پر 515 سال کے طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھارت کے 138 کروڑ عوام کو انکے اپنے اکھنڈ بھارت کے نرماتا محبوب شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ، اتنے بڑے اکھنڈ بھارت کے شہنشاہ رہنے کے باوجود اپنی نجی خواندہ زندگانی کے اخراجات شاہی خزانے سے لینے کی بجائے، اپنی ذاتی کمائی سے پورا کیا کرتے تھے ۔فارغ وقت میں شہنشاہ اورنگ زیب ٹوپیاں بنا کرتے تھے اور بازار میں بیچ کر اس سے حاصل ہونے والی کمائی سے اپنے ذاتی اخراجات پورے کیا کرتے تھے۔ اپنے دیش کی عوام کا حال چال جاننے کے لئے راتوں کو بھیس بدل کر گلی محلوں میں گھوما کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک مرتبہ شب اندھیرے میں بھیس بدل کر شہر کا گشت کررہے تھے کہ بارش ہونے لگی اس لئے سرکاری چراغ مینار کے پاس کھڑے تھے کہ ایک ھندو بنیہ مزدور سمجھ انکے پاس آیا اور پوچھا مزدوری کروگے۔ بادشاہ سلامت نے کہا ہاں مزدوری کریں گے. ھندو بنئے نے کہا میری چھت ٹپک رہی ہے، چھت ٹھیک کرنی ہے۔ شہنشاہ اس ھندو بنئے کےساتھ اس کے گھر گئے اور اس کی چھت ٹھیک کردی ۔ بنیہ اس مزدور کو مناسب تنخواہ دینا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس ایک چونی کے علاوہ اس وقت کچھ نہ تھا اس نے مزدور بنے شہنشاہ کے ہاتھ میں چونی رکھتے ہوئے کہا کہ اب میرے پاس صرف یہ چونی ہی ہے کل صبح میری دوکان پر آنا ایک روپیہ اور دون گا۔ شہنشاہ اس ھندو بنئے سے چونی لیتے ہوئے، اتنی اجرت ہی کافی ہے، کہتے چلے آئے تھے۔
ایک مرتبہ بادشاہ سلامت کے بچپن کے استاد ان سے ملنے آئے تھے۔ایک دن مہمان رہ کر جاتے وقت اپنے استاد کے ہاتھ میں شہنشاہ اورنگ زیب نے وہی چونی تحفہ میں دی تھی اور استاد اپنے شاگرد شہنشاہ ھند سے ھدیہ میں صرف چونی ملنے سے گو خوش نہ تھے لیکن شہنشاہ سے کہنے کی جرات نہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کر چونی لئے چلے گئے۔
شہر سے جاتے ہوئے استاد چونی سے کچھ سامان خریدنے گاؤں گئے اور وہاں کچھ زیادہ قیمت پر وہی سامان بیج دیے جانے کے بعد اس سے منافع ہوئی رقم سے تجارت شروع کی اور اللہ کے فضل وکرم سے تجارت میں خوب منافع ہوا اور استاد محترم تونگر بن گئے.
ایک زمانے کے بعد استاد محترم دوبارہ شہنشاہ سے ملنے گئے تو شہنشاہ کی ھدیہ میں دی ہوئی چونی سے تجارت شروع کرنے اور خوب برکت ہونے کا واقعہ بتاکر، استاد محترم نے شہنشاہ سے جب یہ کہا کہ معذرت خواہ ہیں شہنشاء عالی گو اس وقت ھدیہ میں صرف چونی ملنے پر شکوہ تھا لیکن آپ کی ھدیہ دی ہوئی چونی سے تجارت نے مجھے تونگر بنادیا۔پھر ھدیہ میں صرف چونی دینے کا راز پوچھا۔تب بادشاہ سلامت نے ہرکارے کی معرفت بازار سے اس ھندو بنئے کو بلا بھیجا اور بنئے کے آنے پر اس سے پوچھا آج سے کچھ اتنے سال پہلے بارش والی رات آپ نے ایک مزدور سے اپنی چھت پر کام کرواتے ہوئے اجرت میں کیا دیا تھا، وہ ھندو بنیا اس وقت کے واقعہ کو یاد کرتے کے بعد گھبراتے ہوئے کہنے لگا بادشاہ سلامت اس مزدور نے خوب اچھا کام کیا تھا اور اس کی مزدوری بنتی زیادہ ہی تھی لیکن اس وقت میرے پاس ایک چونی سے زائد کچھ رقم نہ تھی اس لئے میں ایک چونی اس مزدور کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے دوسرے دن دوکان سے مزدوری کا ایک روپیہ مزید لے جانے کا کہا تھا لیکن اس وقت وہ مزدور چونی ہی کافی ہے کہتا ہوا چلا گیا تھا۔بنئے کو تو اس بادشاہ سلامت کے مزدور بن کر اسکی چھت درستگی کے بارے میں پتہ ہی نہ تھا. لیکن بادشاہ سلامت نے اپنے استاد سے معذرت پیش کرتے ہوئے بس اتنا کہا اس دن جب آپ وداع ہورہے تھے تو میرے پاس میری کمائی کے، اس چونی کے علاوہ کچھ نہ تھے اسی لئے میں نے آپ کے ہاتھ صرف وہ چونی ہی ھدیہ کے طور رکھی تھی۔ تب جاکر استاد محترم کو احساس ہوا کہ وشال اکھنڈ بھارت کے شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی رات بھر مزدوری کی کمائی کی وہ چونی تھی جو تجارت میں لگنے کے بعد، انہیں تونگر بناگئی تھی.
اپنے وقت کے عالم کے سب سے بڑے اکھنڈ بھارت کے شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آج بھارت کے دشمن، چین کی سرحدوں میں رہنے والے ھندو بھارت واسیوں کے مذہبی عقیدے والی مانسرور جھیل کے سالانہ درشن و تہوار کے لئے ہزاروں ھندوؤں کو چین جاتے ہوئے ہونے والی دقت کے پیش نظر، شہنشاہ اورنگ زیب نے اس وقت کے چین کے راجہ کے نام سفارتی خط لکھ کر ھندو بھگتی والی مانسرور جھیل علاقے کو مغل سلطنت سے معاوضہ لیکر وہ علاقہ بھارت کو دینے کی استدعا کی تھی اور انکی درخواست چین کے راجہ کی طرف سےٹھکرائے جانے کے بعد، باقاعدہ اپنی فوج کی ٹکڑی اس علاقے تک بھیج کر مان سرور جھیل والےعلاقے کو چین سے آزاد کراتے ہوئے، اس وقت کے وشال اکھنڈ بھارت کا اسےحصہ بنادیا تھا جو آزاد بھارت کے وقت تک بھارت کے حصہ کے طور ہی تھا لیکن آزادی کے بعد چین نے؛ مان سرور جھیل والا وہ حصہ بھارت سے چھین کر اپنی سرحدوں میں شامل کردیا تھا۔ اس لئے فی زمانہ چین بھارت دشمنی والے پس منظر میں ، ہزاروں ھندو شردھالوؤں کو مان سرور جھیل میں اسنان کرنے،بڑی مشکل سے چین جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں فی زمانہ بھارت پر راج کررہے، ہمہ وقت اپنے آپ کو ھندوؤں کے ہت میں کام کرنے والا مہاویر شکتی سالی، ھندو ویر سمراٹ کے طور پر، اپنے آپ کو پیش کرنے والے، مہان مودی جی سے کوئی کہے کہ بھارت کی ہزاروں کلومیٹر زمین انکے دوست چائینیز صدر کے ہڑپ کرنے پر بھی خاموش تماشائی دیکھنے والے مودی جی، اپنے دوست چائنیز صدر سے مان سرور جھیل والی زمین ھندستان کے لئے مانگ کر تو دیکھیں یا ہمہ وقت کمزور پڑوسی پاکستان پر رعب جمانے والے مودی جی سے چین سے دو دو ہاتھ لڑکر مان سرور جھیل والی جگہ چین سے آزاد کرانے کو کہیں تب تو بھارت واسی ھندوؤں کو اس ویر سمراٹ مہان شکتی سالی ھندوؤں کے رکھشک کی اصل اوقات پتہ چلے گی۔
وشال اکھنڈ بھارت کے وزیر اعظم شری مودی جی کو، اس دیش پر حکومت کرنے کا موقع کیا ملا، وہ 138 کروڑ دیش واسیوں کے ٹیکس پیسوں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہوئے ، اپنی ذات پر اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے، ہزاروں کروڑ ایسے خرچ کیا کرتے ہیں جیسے وہ 138 کروڑ عام بھارت واسیوں کا ٹیکس پیسہ نہ ہو.
مہان مودی جی کو دیش واسیوں کے ٹیکس پیسے اپنی ذات پر خرچ کرنے سےپہلے ، مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کی ذاتی زندگی کو ایک مرتبہ پڑھ لینا چاہئے کہ وہ اکھنڈ وشال بھارت کے واقعتا" شہنشاہ وقت رہتے ہوئے بھی، سرکاری خزانے سے ایک پیسہ اپنی خانگی ضروریات تک کے لئے لینے کے بجائے، فارغ وقت میں ٹوپیاں بن کر اور انہیں بیچ کر، اپنے گھر کے اخراجات چلایا کرتے تھے۔
0 تبصرے