از؛ فرنود رومی
کسی بے قصور شخص کی ذات پر کیچڑ اچھال کر اس کی شخصیت کو مجروح و داغدارکرنے کی مذموم سعی کرنے والے ، اور اس پرجھوٹے الزامات لگا کر یا اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اس کی کردار کشی کی گھناؤنی سازش کرنے والے ایک دن خود ذلیل و رسوا ہو کر رہتے ہیں اور پھر اپنے ہی بُنے جال میں اوندھے منہ جا پھنستے ہیں.
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ بھی برا ہوکر رہے گا، خواہ ہم کوئی تیس مار خان ہی کیوں نہ ہوں.کیونکہ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔جیسا کرو گے ویسا ڈنڈ کے ساتھ بھرنا پڑے گا.دیر سویر ہوسکتی ہے مگر یہ ہوکر رہتا ہے۔قران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا،
إِنَّ بَطۡشَ رَبّكَ لَشَدِيدٌ۔ (سورہ بروج :12)
بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے.
آج کل ہمارے یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ قانون کی نظر میں عورتوں کی زیادہ شنوائی ہے اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ شاطر قسم کی عورتیں اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر ان بیچارے مردوں کے خلاف، "جو ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے"، 498-اے (عورت پر کی جانے والی ظلم و زیادتی سے متعلق کیس) کا جھوٹا کیس دائر کردیتی ہیں تاکہ وہ انہیں سبق سکھا سکیں اور اُدھر یہ بیچارے مرد اس قدر مجبور ہوتے ہیں کہ ایسی عورتوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے ایک ساتھ تین طلاق دے بھی نہیں سکتے کہ کہیں "تین طلاق قانون" کی گرفت میں نہ آجاویں۔اور پھر یہی عورتیں اپنی رپورٹ میں سسرال والوں کی جانب سے مارپیٹ ، اور لاکھوں روپئے جہیز کی مانگ جیسے سنگین الزامات عائد کرتی ہیں تاکہ ان کے مرد زیادہ سے زیادہ پریشان ہو. دیکھا جائے تو ان معاملوں میں میں سب سے زیادہ گھر والے جذبات میں آکر دوڑ رہے ہوتے ہیں، اور کورٹ کے چکر لگا رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ایسی حرکتوں سے ان کی اپنی لڑکی کی زندگی خراب ہو جائے گی.لڑکا تو خیر عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کر کے ایک نہ ایک دن بری ہوجائے گا مگر اس لڑکی کو کورٹ کے چکر لگوا لگوا کر گھر والے اس کی زندگی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔اس طرح انتقام کی آگ میں جھلستے ہوئے کیس لڑتے لڑتے لڑکی اپنے گھر بیٹھی رہ جاتی ہے، اسکی عمر نکل جاتی ہے اور پھر کہیں شادی بھی نہیں ہوپاتی.
وہیں سماج و معاشرے کے لوگ ایسے مردوں کواور ان کے گھر والوں کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں اور انہیں یوں لگنے لگتا ہے کہ عورت بیچاری ہی بے قصور تھی۔غلطی پر تو اس کاشوہر اور سسرال والے تھے۔جبکہ ہر کہانی ایسی نہیں ہوتی۔
ہم نے دیکھا بعض مرتبہ برتن سے زیادہ چمچے بج رہے ہوتے ہیں.لڑکی کے گھر والوں کا کیس کچہری کے چکروں میں پڑنے کاکوئی موڈ نہیں ہوتا، مگر ظاہری طور پر خیرخواہ بنے رشتہ دار جلتی پہ تیل کا کام کردیتے ہیں.
ایسے ہی ایک معاملے میں ہم نے دیکھا کہ اپنے مائیکے بیٹھی ایک لڑکی کا مولوی بہنوئی، جس کے ذریعے ہی رشتہ لگا تھا، بات بگڑتی اور سسرال میں اپنی ناک نیچی ہوتی دیکھ، اس حد تک گر گیا کہ اس نے لڑکے کی فیمیلی کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کرتے ہوئےجھوٹے پروپیگنڈوں کے ساتھ زہر افشانی کرنی شروع کردی، اور اپنی پوسٹوں میں ان پر بے جا فقرے کسے اوربے بنیاد الزامات لگائے تاکہ انہیں ذہنی اذیت دی جاسکے اور انہیں بدنام کیا جاسکے .مگر اس نے یہ نہیں سوچا کہ اُس کی اس حرکتِ قبیحہ سے لڑکی کی بھی بدنامی ہو رہی ہے اور اس کی آگے چل کہیں اور شادی کرنے میں کافی رکاوٹیں آسکتی ہیں.ہوا یوں تھا کہ لڑکے والوں نے لڑکی کے ایک سیریس میڈیکل پرابلم (لڑکی کے بدن اور اس کے پسینے سے انتہائی ناگوار بُو آتی تھی) ، ساتھ ہی اس کی تلخ مزاجی اور شک وشبہہ والے کچھ معاملات کو دیکھتے ہوئے جب اس کے گھر والوں سے بات کی تو وہ بجائے کسی بات کو ماننے کے، جھگڑے پر اتر آئے اور اپنی لڑکی کو واپس لے کر چلےگئے، اور پھر اسے نہ بھیجا.یہاں تک تو ٹھیک تھا،مگر پھر انہوں نے اپنی ضد نکالتے ہوئے لڑکے والوں کی فیمیلی سے متعلق، سوشل میڈیا پر اناپ شناپ لکھنا شروع کردیا.لڑکے نے بتایا کہ لڑکی ذہنی مریضہ بھی تھی اور رات بھر لگاتار کچھ نہ کچھ بڑبڑاتی رہتی تھی۔انہی سب باتوں کی بناء پر لڑکے نے زچ آکر ، شرعی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے، ایک طلاق بائین دے کر اس سےعلیحدگی اختیار کر لی.نتیجتاً وہ تین حیض کے بعد اس کے عقد سے نکل گئی۔اسی کے ساتھ اس لڑکے کی دوسری جگہ ایک اچھے گھرانے میں دیکھ بھال کر شادی کر دی گئی. جس پر جل بھن کر طلاق یافتہ لڑکی کے گھر والوں نے لڑکے والوں پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں 498 کے جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی۔اِس دوران لڑکے والوں کی جانب سے گھر کی باتیں سوشل میڈیا پر اچھالنے اور بے بنیاد الزامات لگانے پر، لڑکی کے بہنوئی اور اسکے معاونین پر ہتک عزت کا کیس بھی درج کیا گیا.بعد میں یہ راز بھی افشاں ہوا کہ اس شخص (بہنوئی) کا اپنی سالی کے ساتھ کوئی چکر وکّر بھی تھا.جسے لڑکے والوں نے کہیں بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ لڑکی ذات پر حرف آئے گا.
دوستو!
سیدھی سی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی شخص کی بابت جب بھی کوئی نازیبا و الزامی بات سنیں تو فوراً اس سنی سنائی بات پر آنکھ موند کر یقین نہ کرلیں اور نہ ہی بدگمان ہو کر اس شخص کو judge کرنا شروع کردیں ، بلکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیا کریں، تحقیق کر لیں، اس شخص سے خود پوچھ لیں یا یہ نہ ہوسکے تو تھوڑا صبر کرلیں، ان شاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا جب نتیجہ خود آپ کے سامنے ہوگا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا؟ الزام لگانے والے والا یا وہ جسے مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے؟
0 تبصرے