نمائندۂ انقلاب، روزنامچہ نگار اور مخلص دوست جناب اظہر مرزا Azhar Mirza بھائی سے پرسوں امن چوک میں ملاقات ہوئی۔کچھ دیر چائے نوشی کے ساتھ گفتگو کا دور چلا۔چونکہ وہ پیدل ہی چائے خانے تک آئے تھے، سو میں نے ان کی گلی کے کارنر تک انہیں کمپنی دی. تاہم رخصت ہوتے وقت ان کی گلی کے بالکل سامنے عین سڑک پر کچرے کے ایک بڑے ڈھیر پرنظر پڑی تومیں اظہر بھائی سے گویا ہوا، " اِس کا کچھ کریں بھائی؟"
کہنے لگے، کیا بتاؤں فرنود میاں! اس جگہ پہلے فائبر سے بنا کنٹینر رکھاگیا تھا.لیکن ہرجمعہ کے روز بڑے اہتمام سے لکڑی کوئلہ جلا کر پانی گرم کرنے والے مسلمانوں نے چولہے میں بچا جلتا ہوا کوئلہ اور راکھ اس میں ڈال ڈال کر اس کا پیندا ہی جلا ڈالا۔اب کارپوریشن کے کرمچاریوں کو شکایت کریں تو جواب یہی ملتا ہے کہ کتنی بار کچرے کے کنٹینرز رکھے جائیں جب کہ ہر جمعہ جلتا کوئلہ ڈال کر اسے خراب کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً کچرا اس میں سے باہر نکل جاتا ہے.
اب حال یہ ہے کہ یہ کچرا آدھی سے زیادہ سڑک پر پھیلا ہوا ہوتاہے۔ اور بن پیندے والے اس کنٹینر کا بھی کوئی پتہ نہیں۔تین چار روز قبل تک یہی پڑا ہوا تھا ، شاید کوئی بھنگار والا اسے اٹھا لے گیا.میاں! پہلے اپنے لوگ سدھر جائیں تب نہ کچھ ہووے.اور سنو! جس کارخانہ دار کی دیوار اور دروازے سے لگ کر یہ کچرے کا ڈھیر پھیلا ہوا ہے نا، وہ خود اس بابت کچھ نہیں کرتا، توہم اور گلی محلے والے کیا کریں بھلا؟
دریں اثناء، مرزا بھائی کا کوئی عزیز آگیا تو سلسلہ کلام منقطع کرنا پڑا.اور پھر ہم نے علیک سلیک کے بعد اپنے گھر کی راہ لی. لوٹتے وقت راستہ بھر ہمارے ذہن میں جون ایلیا کا یہی شعر گردش کرتا رہا.
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی،
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم؟
0 تبصرے