سمرقند میں اپنی آمد کے پہلے روز شام میں ہم تیمور لنگ کے مقبرے پہنچے۔ سمرقند کو اصل شہرت و سطوت امیر تیمور (۱۳۳۶ء تا ۱۴۰۵ء) کے زمانے میں ہی ملی تھی جب تیمور نے سمر قند کو اپنا دارالحکومت قرار دے کر اس شہر کو اس وقت ارضِ دنیا پر موجود شہروں کی عروس البلاد بنا دیا تھا۔ تیمور لنگ ازبکستانی لوگوں کا ہیرو ہے۔ وہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ تیمور کے ہر غلط کام کی کوئی نہ کوئی توجیہ و توضیح آپ ازبک عوام سے سن سکتے ہیں۔ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے حضرات ہی نہیں بلکہ ازبک عوام بھی کسی قدر تیمور کی تاریخ سے شناسا اور اس کا ذکر نہایت فخرمندی و افتخار سے کرتی ہے۔ یہ لوگ تیموری دور کو اپنی تاریخ کا بہترین دور قرار دیتے ہیں۔
امیر تیمور مسلم تاریخ کے ان چند حکمرانوں میں سے ہے جنہوں نے دنیا کے وسیع ترین رقبے پر حکومت کی، تیمور کا خواب تھا کہ وہ سکندر اعظم سے بھی بڑا فاتح قرار پائے۔ اسی سبب روس سے لیکر ہندوستان تک کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جو اس کی فوجی پیش قدمی سے بچا ہو۔ یہاں تک کہ وہ چین پر بھی حملہ کرنے کی غرض سے نکلا لیکن چین جاتے ہوئے قازغستان کے سرحدی علاقے فاراب میں بیمار ہوکر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ ازبک لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر تیمور کو مزید زندگی مل جاتی تو آج چینی لوگ بھی ازبک مسلمان ہوتے۔
تیمور کا مقبرہ جس کمپلیکس میں بنا ہے اس کو "گورِ امیر" یعنی بادشاہ کی قبر کہا جاتا ہے۔ نیلے گنبد اور سبز میناروں والی یہ عمارت دلنشیں صناعی میں اپنی مثال آپ اور تیموری دور کے کاریگروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس عمارت کے گنبد سے زیادہ حسین کاریگری والا گنبد شاید ہی کوئی دوسرا میں نے اب تک دیکھا ہو۔ کمپلیکس میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف صحن میں تیمور کے ذاتی استعمال کی چند اشیاء رکھی ہوئی ہیں، جن میں خالص ماربل سے بنا تیمور کے خطاب کرنے کا سنگھاسن، باتھ ٹب جس میں تیمور غسل کیا کرتا تھا اور تیمور کے خطباء کا منبر شامل ہے۔ اس صحن کے دائیں طرف چند کمروں کے کھنڈرات موجود ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دراصل خانقاہیں تھیں جہاں تیمور اور اس کے پوتے الغ بیگ کے دور میں بیرونِ شہر سے آنے والے درویش و صوفی قیام کیا کرتے تھے۔ ان کھنڈرات کے بیچوں بیچ ایک مسجد کے کھنڈرات بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ حجروں کی شکل میں موجود اس طرح کی خانقاہیں تیموری دور میں تعمیر کردہ تقریباً ہر عمارت میں مل جاتی ہیں جو اپنے زمانے میں بیرونِ شہر سے آنے والے علماء اور درویشوں کے لیے عارضی قیام گاہوں کا کام کیا کرتی تھیں۔
صحن سے گزر کر تیمور کے مقبرے کی مرکزی عمارت آتی ہے جس کا دروازہ بادام کی لکڑی کا ہے جو پندرہویں صدی سے اپنی اصلی حالت میں اس عمارت میں موجود ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد ایک ہال آتا ہے جس میں امیر تیمور کی تصاویر اور اس سے متعلق دیگر معلومات آویزاں کی گئی ہیں۔ ان معلومات میں تیموریوں کا شجرہ اور اس کمپلیکس کا ماڈل شامل ہے جس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اصل میں یہ کمپلیکس چار میناروں پر مشتمل تھا جس میں دو مینار مقبرے کے گنبد کے ساتھ اور بقیہ دو مینار کمپلیکس کے بیرونی دروازوں کے ساتھ بنائے گئے تھے۔ لیکن مختلف ادوار میں آنے والے زلزلوں کے سبب بیرونی دروازوں کے ساتھ بنے دونوں مینار پیوندِ خاک ہو کر رہ گئے اور اب صرف ان کی بنیادیں ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔
ہال میں آگے جائیں تو دائیں ہاتھ پر ایک دروازہ آتا ہے جس سے گزر کر آپ تیمور کے مقبرے کے مرکزی حجرے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں جو خوبصورت ترین عمارتیں دیکھی ہیں، یہ حجرہ ان میں سے ایک ہے۔ اس کی مسحور کردینے والی صناعی اور خوبصورتی دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کمرے میں سنگ مرمر کے احاطے میں چھ بڑی قبریں اور دو چھوٹی قبریں بنی ہوئی ہیں جن میں کالے پتھر سے بنی تیمور کی قبر ہے۔ یہ پتھر ایران کے ایک پہاڑ سے تیمور کا پوتا الغ بیگ لایا تھا جس کی خاصیت یہ ہے کہ سورج کی روشنی پڑنے پر یہ پتھر کالے سے ہرے رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ احاطے میں بنی سب سے چوڑی قبر تیمور کے استاد سید برکہ کی ہے جو تیمور کی قبر کے سرہانے پر واقع ہے۔
ساتھ ہی تیمور کے دو بیٹوں شاہ رخ مرزااور میران شاہ کی قبریں ہیں۔ ان کے ساتھ ہی تیمور کے دو پوتوں الغ بیگ اور محمد سلطان کی قبریں ہیں۔ احاطے میں جو دو چھوٹی قبریں ہیں وہ تیمور کے کمسن پڑ پوتوں اور الغ بیگ کے بیٹوں عبداللہ مرزا اور عبدالرحمٰن مرزا کے مدفن بتائے جاتے ہیں جو چھُٹپن میں ہی وفات پاگئے تھے۔ اس احاطے سے باہر ایک قبر اور ہے جو اس عمارت میں بنی خانقاہ میں رہنے والے ایک صوفی سید عمر کی ہے۔ اس قبر کے سرہانے پر بطور نشانی توخ یعنی درخت کا تنا لگا ہوا ہے جس کے آخری سرے پر گھوڑے کے بال لٹک رہے ہوتے ہیں جو ازبک روایات کے تحت اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ قبرکسی صوفی یا درویش کی ہے۔ حقیقت حال میں تو یہ ساری قبریں ایک زیر زمین کمرے میں واقع ہیں جس کے بالکل اوپر اس حجرے میں سنگ مرمر کی مذکورہ قبریں محض بطور علامت بنائی گئی ہیں۔
امیر تیمور کی جائے پیدائش بخارا اور سمر قند کے درمیان واقع ایک علاقے "شہر سبز" کی تھی اور وہیں تیمور نے اپنی قبر مختص کرواکر خواہش ظاہر کی تھی کہ مرنے کے بعد اسکو یہاں لاکر دفن کیا جائے۔ لیکن چین جاتے ہوئے جب فاراب کے مقام پر تیمور کا انتقال ہوگیا تو اس کا پوتے الغ بیگ ،جو اس کے بعد سمرقند کا حاکم بنا، تیمور کے جسد کو فاراب سے سمرقند لے آیا اور یہی تیمور کے ایک دوسرے چہیتے پوتے محمد سلطان کے ہاتھوں شروع کروائی گئی اس عمارت میں تیمور کی تدفین کردی۔ محمد سلطان نے اس عمارت کا سنگ بنیاد چودہویں صدی عیسوی میں رکھا تھا تاہم ۱۴۰۳ء میں جب محمد سلطان کا انتقال ہوگیا تو تیمور کے دوسرے پوتے الغ بیگ نے اس عمارت کے کام کو مکمل کروایا جہاں ۱۴۰۳ء میں پہلے محمد سلطان اور پھر ۱۴۰۵ء میں تیمور لنگ کو دفن کیا گیا اور اس کے بعد تیموری خاندان کے چند دیگر افراد بھی یہاں دفن ہوئے جن کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔
۱۹۴۱ء میں اپنے دورِ استبداد کے دوران روسیوں نے مشہور ماہرِ حفریات و بشریات میکائیل گرامیسیو کو سمرقند بھیج کر تیمور کی قبر کھلوکر اس کے ڈھانچے کا معائنہ کروا یا اور اس کی شکل کی شبیہ اور مجسمہ بنوایا جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ شبیہ و مجسمہ تیمور کی اصل شکل و صورت سے ۹۵ فیصدی مشابہ ہے۔ مقامی لوگوں میں تیمور کے قبر سے متعلق مختلف اساطیر مشہور ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ روسی ٹیم جب تیمور کا مقبرہ کھولنے لگی تو ان کو تیمور کی قبر پر ایک تحریر کندہ ملی کہ "جو کوئی میری قبر کھولنے کی کوشش کرے گا، اس کا سامنا مجھ سے زیادہ سخت دشمن سے ہوگا"۔ پس بقول مقامی لوگ یہ اس تحریر کی نحوست تھی کہ جب پہلی دفعہ تیمور کی قبر کھولنے کی کوشش ہوئی تو جرمن افواج نے سوویت یونین پر حملہ کردیا تھا اور جب دوسری دفعہ یہ کوشش ہوئی تو اس وقت آپریشن باربروسہ کے نتیجے میں جرمن افواج کو سوویت یونین پر فتح حاصل ہوئی تھی اور جرمنی مشرقی محاذ پر روس کے کئی علاقوں پر قابض ہوگیا تھا۔ بہرحال یہ محض داستانیں ہی ہیں جن کو ہونے والے واقعات کے بعد چُن بُن لیا گیا۔

0 تبصرے