گذشتہ دنوں پاتنجلی کے بابا رام دیو کے متنازعہ بیان نے سوشل میڈیا کے صارفین میں بحث چھیڑ دی کہ آخر روح افزا کو مذہبی مدارس اور مساجد سے جوڑنے کی کیا ضرورت تھی؟
آئیے روح افزا کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔

تحریر: ہرلین سنگھ
(ملحوظ رہے کہ روح افزا یہ نام، پنڈت دیا شنکر نسیم کی کتاب
مثنوی گلزار نسیم کے ایک کردار سے لیا گیا تھا۔)
اسے دہلی کے مصور مرزا نور احمد کے مشہور لیبل کے ساتھ شیشے کی بوتلوں میں پیک کیا گیا۔
روح افزا میں پھلوں، سبزیوں، جڑی بوٹیوں اور جڑوں کا ایک بہترین مرکب موجود تھا جو چینی کے شربت میں ملا ہوا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ صارفین نے اس شربت کے ذائقے کو اتنا پسند کیا کہ چند ہی گھنٹوں میں سو سے زائد بوتلیں فروخت ہو گئیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ جو شربت، دوا کےطور پر بنایا گیا تھا، وہ پوری دہلی میں گرمیوں کے مزیدار مشروب کے طور پر مقبول ہونے لگا.
بڑھتے ہوئے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے، حکیم عبدالمجید نے دہلی سے بالکل باہر غازی آباد کی ایک فیکٹری ڈالی۔اور وہاں روح افزا کو بڑے پیمانے پر تیار کرنا شروع کیا۔ جلد ہی یہ مشروب دہلی کے بڑے پکوانوں کے ساتھ ایک مشروب کے طور لازم و ملزوم قرار پایا.
1947 تک، روح افزا دہلی کے ہر باورچی خانے اور اس کے قریبی
صوبوں کے بیشتر مقامات پر پایا جاتا تھا۔
ستمبر 1947 کے فسادات کے ساتھ ہی دہلی کے مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر پرانا قلعہ اور جامع مسجد میں بنائے گئے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینا شروع کر دی۔
کئی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے، کیونکہ ایک نے پاکستان کا انتخاب کیا اور دوسرے نے پیچھے رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہمدرد بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ 1948 میں، سید کی سربراہی میں ہمدرد خاندان کا ایک گروہ پاکستان کی نئی ریاست کراچی ہجرت کر گیا۔
ہمدرد پاکستان کا آغاز شروع میں کرائے کی دو کمروں کی جگہ سے کیا گیا۔ روح افزا کا جادو کام کر گیا اور کچھ ہی عرصے میں ہمدرد پاکستان نے کامیابی کی منازل طئے کر لیں۔
1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے نتیجے میں ہمدرد کی آخری تقسیم اس وقت ہوئی جب ہمدرد پاکستان نے ہمدرد بنگلہ دیش کو جنم دیا۔
0 تبصرے