یہ دیش آخر کس طرف جا رہا ہے؟


از؛ انجینئر فرنود رومی (فری لانس جرنلسٹ) 
ایک طرف بلقیس بانو کیس میں بلاتکاریوں کو باعزت رہائی دےدی جاتی ہے۔ مگرمیڈیا کی بے حسی دیکھیے کہ ان کے گھر پہنچ کر ایک بھی رپورٹر اپنے سوالات کے ذریعے انہیں شرمندہ نہیں کرتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ رہائی کا جشن مناتے ہوئے ان ملزمین کی مٹھائی کھانے اور کھلانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر چلائی جاتی ہیں۔
 دوسری طرف ودھایک و سانسد رہ چکے یوپی کے ڈان کہے جانے والے عتیق اور اس کے بھائی کے بہیمانہ قتل کے بعد، قاتلوں کو چھوڑ کر، مقتولین کے گھر کے اطراف نام نہاد نیوز چینلز اور بکاؤ پترکار ڈیرہ ڈالے کود کود کر فرضی افسانے اور کہانیاں بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔
منافرت پھیلانے والے شرپسند فرقہ پرست، سوشل میڈیا پر اسے ہندو مسلم کا رنگ رنگنے میں مصروف ہیں۔
ماضی میں مالیگاؤں بم بلاسٹ کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا بھوپال سے بھاجپا کے ٹکٹ پر ایم پی بن جاتی ہے۔ مسلسل نفرت آمیز بیانات دینے ٔکے باوجود وہ ایم پی کی کرسی پر  براجمان رہتی ہے مگر کانگریس کے اہم لیڈر راہل گاندھی کو مان ہانی کیس کی بنیاد پر لوک سبھا ایم پی کے پد سے disqualify کردیا جاتا ہے۔
 عدالتی نظام و انصاف کو چھوڑ کر غیر آئینی قتل و انکاؤنٹر پر سوشل میڈیا پر اودھم کود کرنے والے اندھ بھکت اور آئی ٹی سیل کا کام کرنے والے سوشل میڈیائی نمونوں کو یقین ہوچلا ہے کہ اب جمہوریت والے ملک کے آئین کو تار تار کر کے اسے وہ راشٹر بنا ہی دیا جائے گا، جس کی کلپنا ان کے  فرقہ پرست لیڈران وقتاً فوقتاً کرتے آئے ہیں۔
 فرقہ پرستوں کاماننا ہے کہ نفرت کی راجنیتی اور مٹی میں ملانے کی کارروائی اگر نہیں چلتی رہی تو دو ہزار پچاس تک وہ اقلیتی فرقے کی بڑھتی آبادی کے سبب بھارت کے اندر مائناریٹی (اقلیت) میں شمار ہونے لگیں گے۔حالانکہ اس بات میں دور دور تک کوئی سچائی نہیں ہے۔ 
یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جس مغلیہ سلطنت اور مغل حکمرانوں کا نام موجودہ حکومت درسی کتابوں سے نکال رہی ہے، اسی مغلیہ دور حکومت میں بلا تفریق مذہب و ملت لوگ بڑےامن و شانتی کے ساتھ گزران کیا کرتے تھے۔
بفرض محال اگر مغل حکمرانوں نے آج کے اکثریتی فرقہ کا وجود مٹانے کی سازش کی ہوتی تو وہ آج اکثریت میں نہ ہوتے۔
مگرافسوس کہ انگریز "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" کی پالیسی پر اتنی زبردست محنت کرگئے ہیں کہ اب ان کے جانے کے بعدنفرت کا بیج بورہی لابیوں نے کٹھ پتلی بنے متعصب سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اکثریتی فرقہ کے معصوم ذہنوں کی سوچ یہ بنا دی ہے کہ دھرم کو سنکٹ سے بچانے کے لیے جمہوریت کا خاتمہ کر کے ایک ایسی حکومت (راشٹر) وجود میں لائی جانی چاہیے جس میں صرف ایک ہی دھرم (سناتن دھرم) کی بالادستی ہو اور بقیہ دوسرے تمام مذاہب کے ماننے والوں سے ان کے مذہبی اور رائے دہندگی (ووٹنگ) کےحقوق سلب کرلیے جائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے