از : ایچ ایم اشرف اللہ محوی، بنگلور
میرا ایک چھوٹا سا کرانہ اسٹور ہے ۔ میں روزانہ پچاس روپے کاروبار سے نکال کر گولک میں ڈال دیتا ہوں ۔ پھر میں ہر ماہ پندرہ سو روپے اپنے محلے کی ڈسپنسری میں دے آتا ہوں ۔ وہاں معائنہ فیس پچاس روپے کے عوض مریضوں کو ادویات دی جاتی ہیں ۔ میری طرف سے ایک مہینے میں تیس مریضوں کا علاج ہوجاتا ہے ۔
میں اپنے کاروبار سے روزانہ سو روپے الگ کرکے اپنی بیوی کے پاس جمع کراتا ہوں ۔ مہینے کے بعد ہم تین ہزار روپے کا راشن بیگ ایک غریب گھرانے کو بھجوا دیتے ہیں ۔
میں محکمۂ تعلیم سے وابستہ سینئر سبجیکٹ اسپیشلسٹ ہوں ۔ میں ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی تنخواہ میں سے پانچ ہزار روپے الگ کرتا ہوں ۔ ہم ہر سال ماہ رمضان میں اپنے شہر کے یتیم خانے میں قیام پذیر بچوں کو عید کے نئے کپڑے لے کر دیتے ہیں ۔ ہمارے بجٹ سے ساٹھ پینسٹھ بچوں کے لیے دیدہ زیب کپڑوں کا انتظام آسانی سے ہوجاتا ہے ۔
میں ایک کلرک ہوں ۔ میری تنخواہ پینتیس ہزار روپے ہے ۔ میں ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے اپنے محلے کے تین یتیم بچوں کی اسکول کی ٹیوشن فیس ادا کرتا ہوں اور اس طرح یہ میری طرف سے صدقہ ہوتا ہے ۔
میری کپڑے کی دکان ہے ۔ میں ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی آمدنی میں سے دس ہزار روپے الگ کرتا ہوں ۔ یہ سال کے ایک لاکھ بیس ہزار روپے بنتے ہیں ۔ میں ہر سال ایک یتیم بچی کی شادی اور رخصتی کا بندوبست کرتا ہوں ۔
میں ڈاکٹر ہوں ۔ میرا معمول ہے کہ میں اپنی آمدنی میں سے کینسر سوسائٹی کے ذریعے روزانہ ایک غریب مریض کے لیے کیمو تھیراپی کا انجکشن ڈونیٹ کرتا ہوں ۔
ہم دونوں میاں بیوی سرکاری اسکول میں پڑھاتے ہیں ۔ ہم ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے ایک معقول حصہ الگ کرتے ہیں اور ہر ماہ کے پہلے اتوار کو اپنے محلے کے دینی مدرسے میں پڑھنے والے ہاسٹلائز بچوں کو مدرسے میں جاکر کھانا پیش کرتے ہیں ۔
میری پوش علاقے میں ایک بیکری ہے ۔ میں نے اپنے علاقے کے دونوں گرلز اور بوائز اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر کو کہہ رکھا ہے کہ یتیم طلبہ و طالبات کے یونی فارم اور جوتے میرے ذمے ہیں ۔ یہ کام کئی سال سے جاری ہے ۔ الحمد للہ ! اس مقصد کے لیے دو سو روپے روزانہ الگ کردیتا ہوں ۔
میرا ریسٹورنٹ ہے ۔ میں روزانہ دس لوگوں کو اپنے ریسٹورنٹ سے رات کا معیاری کھانا پارسل دیتا ہوں تاکہ وہ غریب لوگ گھر جاکر اپنی فیملی کے ساتھ سیر ہوکر کھائیں ۔
میں انجینئر ہوں ۔ میں ایک نجی کمپنی میں جاب کرتا ہوں ۔ میری بیوی بھی ایک بڑے تعلیمی ادارے میں تدریس کے فرائض انجام دیتی ہے ۔ ہم دونوں اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک مخصوص رقم الگ کرتے ہیں ۔ ہم معذور افراد کے لیے قائم ایک ادارے کو ہر ماہ ایک وہیل چیئر عطیہ کرتے ہیں جو کسی مستحق معذور کو دے دی جاتی ہے ۔
قدرت کی نعمتوں کے خزانے ہزار ہیں
تو ہی اگر نہ چاہے بہانے ہزار ہیں
آئیے، آج سے ہم بھی عزم کریں کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے مستحق لوگوں کا حصہ نکالیں گے ان شاء اللہ۔
0 تبصرے