تحریر: محمد فھد حارث
داؤدی بوہروں کی علمی روایت کافی کچھ قدیم ہے۔ ان کے اندر بڑے بڑے اہل علم اور علم کی قدر کرنے والے حکمران گزرے ہیں جن کو علم اور کتابوں سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ اثنا عشریوں کے برخلاف انہوں نے کبھی عربی زبان سے تعصب کا اظہار نہیں کیا۔ آج بھی ان کے تمام مُلّا زیادہ تر آپس میں فصیح عربی میں ہی کلام اور خط و کتابت کرتے ہیں۔ ان کے موجودہ داعی مطلق مُلّا مفضل سیف الدین ایک علمی شخصیت ہیں جو کہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ انڈیا کے چانسلر بھی ہیں۔ ۲۰۱۵ میں گورنر سندھ عشرت عباد کی طرف سے مفضل سیف الدین کو کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی تھی۔
مصر میں اپنی حکومت کے دور میں بوہری ائمہ فاطمی حکمرانوں نے علمی روایات کی شاندار مثالیں قائم کیں۔ ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی اپنی کتاب "من روائع حضارتنا" میں خلفائے فاطمیہ کے کتب خانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قاہرہ کے خلفائے فاطمیہ کا ایک کتب خانہ بنام مکتبۂ خلفاء فاطمین قاہرہ اُس وقت کے مشہور کتب خانوں میں سے تھا۔ یہ عجیب کتب خانہ تھا جس میں نفیس ترین قرآن مجید اور کتابیں موجود تھیں۔ جن کی مجموعی تعداد اکثر مؤرخین کی رائے کے مطابق بیس لاکھ تھی۔ اگرچہ مقریزی کا خیال ہے کہ وہ سولہ لاکھ کتابوں پر مشتمل تھی۔ اسی طرح ایک دوسرا کتب خانہ بنام دارالحکمت قاہرہ تھا جس کو بوہروں کے ۱۶ ویں امام حاکم بامر اللہ نے قائم کیا تھا۔ اس کتب خانے کا افتتاح ۱۰ جمادی الاولیٰ ۳۶۵ ہجری کو ہوا تھا۔ اس میں اس قدر عظیم الشان ذخیرۂ کتب جمع کیا گیا تھا جو اس سے پہلے کسی بادشاہ نے جمع نہیں کیا تھا۔ اس کے چالیس حصے تھے، ہر حصہ اٹھارہ ہزار کتابوں پر مشتمل تھا جن میں قدیم علوم پر ہر قسم کی کتابیں تھیں۔ ہر آدمی وہاں جاسکتا تھا، کوئی وہاں جاکر محض مطالعہ کرتا، کوئی نقل کرتا اور کوئی صرف تعلیم حاصل کرتا۔ اس لائبریری کی جانب سے قلم، دوات، ہر طرح کی روشنائی اور کاغذ آنے والوں کو مفت مہیا کیے جاتے تھے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی، فاطمی عہد کی علمی مجالس کی سرخی قائم کرکے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں قاہرہ میں علماءکا انبوہِ کثیر رہتا تھا ، ہر وقت علمی مجالس برپا رہتی تھیں اور اکثر اوقات خود خلفاء ان مباحث میں صدارت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وزراء اور امراء کی خصوصی مجالس بھی ہوا کرتی تھیں جس میں ہر فن کے اہل علم جمع ہوتے تھے۔ برامکہ کی مجالس کے حالات سے ادب و تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ان مجالس میں علمی موضوعات پر مباحثے اور مناظرے ہوا کرتے تھے۔ سیف الدولہ حمدانی کی مجلس میں ابو فراس الحمدانی وغیرہ جیسے پایہ کے چالیس سے زیادہ صرف شعراء تھے اور جن میں مشہور شاعی متنبی بھی شرکت کرتا تھا۔ یہ مجالس بھی اپنی خوبی اور وسعت میں عباسیوں کے زریں عہد کے وزراء کی شاندار مجالس کی یاد تازہ کردیتی ہیں۔ یہی حال وزیر الغرات کی مجالس کا تھا۔ ابو حیان التوحیدی اپنی کتاب "الامتاع و الموانسۃ" میں ان مجالس کا اجمالی تذکرہ کرتے ہیں جو وزیر موصوف کی صدارت میں منعقد ہوتی تھیں۔ ان مجالس میں سیرانی، خالدی، قدامہ بن جعفر، علی بن عیسیٰ الجراح اور ان جیسے بے شمار دوسرے مشہور فلسفی اور منطقی شریک ہوتے تھے۔
بوہروں کی یہ شاندار علمی روایتیں آج تک برقرار ہیں جس کا جیتا جاگتا نمونہ ۲۰۶ سالہ قدیم الجامعہ السیفیہ ہے ۔ جامعہ سیفیہ کا سنگ بنیاد بوہروں کے ۴۳ ویں داعی مطلق عبدِ علی سیف الدین نے ۱۸۱۴ء میں ہندوستان کے شہر سورت گجرات میں "درسِ سیفی" کے نام سے رکھا تھا۔ جس کو بعد میں بوہروں کے ۵۱ ویں داعی مطلق طاہر سیف الدین نے ۱۹۶۰ء میں یونیورسٹی کا درجہ دے کر اس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے شعبہ جات بھی قائم کردیے۔ بوہروں کے ۵۲ ویں داعی مطلق محمد برہان الدین نے جامعہ سیفیہ کا دوسرا کیمپس ۱۹۸۳ء میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں قائم کیا جبکہ اس کے تیسرے کیمپس کا سنگ بنیاد ۲۰۱۱ء میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں رکھا گیا۔ اس کے دو سال بعد ممبئی میں جامعہ سیفیہ کا چوتھا کیمپس قائم کیا گیا۔ جامعہ سیفیہ سورت میں عربی زبان کے بعض نہایت قیمتی اور قدیم ترین قلمی مخطوطات بھی محفوظ ہیں۔ جامعہ سیفیہ کے تمام اخراجات مفضل سیف الدین اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔
جامعہ سیفیہ میں تمام دینی علوم کی تعلیم عربی زبان میں دی جاتی ہے اور یونیورسٹی کا لینگویج میڈیم عربی ہے۔ علوم دینیہ کی سند کا دورانیہ ۱۱ سال کا ہوتا ہے جس میں طلباء کو عربی زبان اور علوم دینیہ میں مہارت دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی عصری علوم کے شعبہ جات بھی ہیں ۔ یہ ۱۱ سالہ کورس تین حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ پہلا حصہ چار سال اور ۵۵ کورسز پر مشتمل ہوتاہے۔ جب کہ دوسرا حصہ جو کہ پانچ سال پر محیط ہے مزید دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ پہلا حصہ ۳ سال اور ۷۵ کورسز جبکہ دوسرا حصہ ۲ سال اور ۹۰ کورسز پر مشتمل ہوتا ہے۔ آخری کے دو سال مہارت تامہ یعنی اسپیشلائزیشن اور ایڈوانس اسٹڈیز کے ہوتے ہیں۔ ہر حصہ کی کامیاب تکمیل پر اس کی سند دی جاتی ہے جبکہ جو طالبعلم ۱۱ سال کی مکمل تعلیم حاصل کرلیں ان کو الفقیہ الجید کی سند سے ممتاز کیا جاتا ہے۔ جامعہ سیفیہ کی سند مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی سند کے برابر تصور کی جاتی ہے جس کو جامعہ الازہر اور آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ بھی تسلیم کرتی ہیں۔ دورانِ تعلیم جامعہ طلباء کو اپنے خرچہ پر حج و عمرہ کے لیے بھی بھیجتی ہے۔
جامعہ سیفیہ کے ماتحت ۵۰سے زایداسکول قائم ہیں جو کہ عام قومی بورڈ اور کیمبرج سسٹم دونوں کے تحت تعلیم مہیا کرتے ہیں۔ یہ اسکول مدرسہ سیفیہ برہانیہ کہلاتے ہیں۔ جامعہ سیفیہ سے ہی ملحق المعہد الزہرا ہے جو کہ تحفیظ القرآن یعنی قرآن کے حفظ کا شعبہ ہے۔ اس شعبہ کی شاخیں دنیا بھر میں موجود ہے۔ بوہروں کے ہاں قرآن کے حفظ پر خاص زور دیا جاتا ہے اور نہایت جدید تکنیک کے تحت حفظ القرآن مع مخارج کروایا جاتا ہے جس سے طلباء کی حفظ القرآن کی رفتار عام رواج سے کافی کچھ تیز ہوتی ہے۔ ان کے ہاں حفظ قرآن کی اس قدر اہمیت ہے کہ پوری دنیا میں حفظ قرآن کی تکمیل کی تقریب کے انعقاد میں خود ان کے داعی مطلق جاکر طلباء کو اسانید تفویض کرتے ہیں۔ جو کہ ایک عام بوہری کے نزدیک نہایت سعادت کی بات ہوتی ہے ۔ بوہروں کے ہاں تعلیم پر اس قدر زیادہ زور ہے کہ ان کے ہاں شرح خواندگی صد فیصد ہے۔
0 تبصرے