✍️ ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد
چیف منسٹر کیرالا نے جہیز کو روکنے کے لئے جو فیصلہ لیا ہے، وہ بے مثال ہے۔ انہوں نے کسی بھی کالج میں ایڈمیشن کے لئے ایک بانڈ پر دستخط کو لازم کردیا ہے جس کے ذریعے اگر طلبا نے تعلیم کے بعد شادی کے موقع پر جہیز لیا تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے۔
اس پر عمل آوری کتنی ہوگی ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ لیکن یہ اقدام کم از کم اُس قوم کیلئے ایک سبق بلکہ عبرت ہے، جس قوم کی شریعت میں جہیزکو معیوب یا مکروہ ہی نہیں بلکہ ”حرام“ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اُس قوم نے اس حرام کو روکنے کے لئے آج تک سوائے تقریوں، وعظ اور خطبوں کے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ جن لوگوں نے عملی اقدام کئے ان کا ساتھ دینے کے بجائے ان پر تنقیدیں کیں۔
مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسرے کئی متحرک علما نے عائشہ کی خودکشی کے بعد اگرچہ کہ جہیز کے خلاف خوب مہم چلائی، لیکن یہ سب زبانی جمع خرچ سے زیادہ ثابت نہیں ہوا، کیونکہ وہ شادیوں میں فضول خرچیوں کو ناجائز ضرور بولتے رہے لیکن ایسی شادیوں میں شرکت کو ناجائز بولنے سے گریز کرتے رہے۔
کیرالا سے پہلے بہار وغیرہ میں بھی اگرچہ کہ جہیز کے خلاف روک لگائی گئی، لیکن کیرالا کا یہ اقدام سب کے لئے قابلِ تقلید ہے۔ کیونکہ اگر کوئی تبدیلی آسکتی ہے تو وہ نوجوانوں ہی کے ذریعے آسکتی ہے۔ جہیز کا معاملہ جب تک والدین اور بزرگوں کے ہاتھوں میں رہے گا، لڑکے اور لڑکیوں کی بولیاں لگتی رہیں گی۔ نوجوان نسل بزرگوں کے رسم و رواج پر بلی چڑھتے رہے گی۔ چیف منسٹر کیرالا کے اقدام سے ہمیں یہ زبردست نکتہ ملتا ہے کہ اگر مدارس میں حفظ، مولوی، کامل، عالم یا فاضل میں داخلے سے پہلے ہی اگر ان سے یہ عہد لیا جائے کہ جہاں وہ دوسری سنتوں جیسے داڑھی، ٹوپی، عمامے وغیرہ، اور دوسرے فرائض جیسے نماز، روزہ وغیرہ کی پابندی کریں گے ویسے ہی نکاح جو کہ اِس دور کی سب سے نازک بلکہ ہتھیلی میں انگارہ رکھنے والی سنتوں میں سے ایک ہے، جہاد سے کم نہیں ہے، اس سنت کو چاہے دوسرے لوگ عمل کریں نہ کریں، یہ دینی علوم حاصل کرنے والے ہر قیمت پر عمل کریں گے۔ جس طرح کسی کے زبردستی کرنے پرشراب، سود یا خنزیر کا گوشت جائز نہیں ہوجاتا، اسی طرح لڑکی والوں کے اصرار کرنے پر جہیز یا کھانے بھی جائز نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ عہدِ حاضر کی تہذیب کی یہ ایک مہذ ب بھیک، رشوت، فتنہ اور غیرقوم کی نقل ہے۔ ورنہ جہاں یہ دینی طبقہ جہیز لینے کا مرتکب ہوتا ہے، یا ایسی شادیوں میں جاکر پہلے دسترخوان پر بیٹھ جاتا ہے، وہیں عوام کو اُن سے اِن خرافات کے جائز ہونے کی تصدیق مل جاتی ہے۔
بعض لوگ یہ حیلہ پیش کرتے ہیں کہ مدارس سے نکلنے والوں کی تعداد تو تین فیصد ہے، اور مشائخین تو بمشکل.5% 0ہیں۔ بجائے ساڑھے تین فیصد لوگوں پر تنقید کرنے کے، لاکھوں ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے پیشوں کے لوگ جو 96.5% ہیں،جو خوب جہیز اور کھانے وصول کرتے ہیں، آپ جاکر اُن سے کیوں نہیں کہتے؟ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہر برائی پرتنقید کیلئے لوگوں کی انگلیاں پہلے علما اور مشائخین پر ہی کیوں اٹھتی ہیں۔ یہ بات یہاں پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اسلام کے ہندوستان میں داخل ہونے سے قبل ہم تمام کے آباواجداد بدھسٹ، جین، ہندو یا پھر دراوڑین ہی تھے۔ ان سب ادیان میں جو ایک قدرِ مشترک تھی وہ پنڈت پرستی تھی۔ ایک اعلیٰ ذات ان تمام کے ذہنوں پر حکومت کرتی تھی۔ دھرم سے تو کوئی بھی واقف نہیں تھا لیکن جو پنڈت کہہ دے، اسی کو دھرم مان لیتے تھے۔ ہمارے پُرکھوں نے کلمہ تو پڑھ لیا لیکن ذہنوں سے وہ برہمن پرستی نکال نہیں سکے جو صدیوں سے آج بھی چلی آرہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے پنڈت کی جگہ مولوی اور مرشد کو دے دی ہے۔ اکثریت کے عقائد، رسم و رواج، حلال و حرام کے پیمانے وہی ہیں جو جمعہ کے خطبوں، وعظوں، جلسوں اور دین کے نام پر ہونے والی مجلسوں میں بیان ہوتے ہیں۔ اور ان تمام مقامات پر اجارہ داری اسی طبقے کی ہے جو 3.5% ہے۔ اس لئے ڈاکٹروں یا انجینئروں سے پہلے اِس طبقہ کے عقائد، رسم ورواج اور حلال و حرام کے پیمانے درست کرنے ضروری ہیں۔آج بھی انہی علما اور مفتیوں کی کثرت ہے جو خوشی سے جہیز لینے اور دینے کو جائز کہتے ہیں، منگنی اور شادی کے دن کے کھانوں کی بدعت کو اپنے خاندان کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی جائز کرتے ہیں، اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اُدھار مہر سنت سے ثابت ہی نہیں۔ یہ واجب ہے اور نقد مہر کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں۔ لیکن کسی نہ کسی گمنام صحابیؓ کے ادھار مہر کے واقعہ کو مثال بنا کر رسول اللہ ﷺ اور معروف صحابہؓ اور خلفاءِ راشدین کی مثالوں کو نظرانداز کرڈالتے ہیں۔
یہ وجہ ہے کہ ہم جہیز کے معاملے میں ہونے والے پورے بگاڑ کی ذمہ داری صرف دینی طبقہ پر ڈالتے ہیں جن میں علماء اور مشائخین ہی سرِ فہرست ہیں۔ انہی کے پیچھے قوم چلتی ہے۔ انہی کی کہی ہوئی باتوں کو لوگ شریعت سمجھتے ہیں، اور یہ جہاں جہاں نظر آئیں ان جگہوں کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایک بار ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اور امر بالمعروف کی تلقین کررہے تھے۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کے علما بھی امر بالمعروف کرتے تھے۔ لیکن جب دیکھتے کہ لوگ ان کی باتیں سننے تیار نہیں تو پھر یہ بھی انہی کے ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے لگتے، یعنی جو اکثریت کرتی، مجبوری کہہ کر یہ بھی وہی کرنے لگتے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے ہوئے پیٹھ سیدھی کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ”خبردار، تم لوگ ایسانہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دعائیں کرتے رہو، اور اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو رد کردے“۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔
انسانی فطرت ہوتی ہے جو کہ قرآن میں بھی بیان ہوئی ہے ’اتّخذو اھبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ“۔ یعنی لیڈروں ،مرشدوں یا علماءکو یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنا رہنما بنالیتے تھے اور جس چیز کو وہ حلال کہیں اسی کو حلال کرتے اور وہ جس چیز کو حرام کہیں اسی کو حرام مان لیتے تھے۔ آج ہم بھی یہی کررہے ہیں۔ ہر مسلک میں بعض ایسے علماء پیدا ہوگئے ہیں جو یوٹیوب کے ذریعے ایسی ویڈیوز پھیلارہے ہیں جس میں کہا جارہا ہے کہ اپنے مسلک کے علماء کے علاوہ کسی اورکی بات سننے سے گمراہ ہوجاوگے، اور یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اگر واعظ عالم نہیں ہے تو اس کی تقریر سننا بھی گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ دن بہ دن لوگ تنگ ذہن ہوتے جارہے ہیں۔
تمام سنتوں میں نکاح سب سے بڑی سنت اسی لئے ہےکہ اس سے پوری قوم کی اکنامی اور اخلاقیات جڑی ہوئی ہے۔ ایک بیٹی کی شادی میں پورا خاندان معاشی طور پر جتنے سال پیچھے ہوجاتاہے، اس کی پابجائی کرنے کے لئے اسی گھر کا بیٹا جب خود شادی کرتا ہے تو کسی دوسرے گھر کو معاشی طور پر کئی سال پیچھے کرڈالتا ہے۔ اس طرح ہم سب ایک دوسرے کو منگنی، کھانوں، جہیز اور جوڑے کی رقم، پھر اس کے بعد پہلی زچگی کے خرچ کے لزومات کی وجہ سے ننگے کرڈالتے ہیں۔
التماس ہے کہ مدرسوں کے طلبا جو کل منبر و محراب کے ذریعے یا پھر مشائخ بن جائیں تو بیعت کے ذریعے لوگوں کے عقائد اور اعمال کی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں، ان طلبا سے یہ عہد لے کر ہی داخلہ دیا جائے کہ وہ نکاح کو ہرگز مشرکوں کے طریقے پر نہیں کرینگے، اور کسی بھی ایسی شادی کی دعوت ہرگز قبول نہیں کریں گے جس میں غیرشرعی رسومات ہوں۔ اپنی شادی مکمل نبی ﷺ کے طریقے پر کرینگے، اور تقریروں اور خطبوں میں صرف اور صرف اسی طریقے پر کرنے کی تلقین کرینگے۔ مگر یاد رہے یہ تقریریں کوئی نئی نہیں ہیں۔ جو عالم یا مرشد نہیں ہیں وہ بھی اس موضوع پر خوب شعلہ بیانی کررہے ہیں۔ اصل حکم یہ ہے کہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ جو شادی نبی ﷺ کے طریقے پر نہ ہو، جس شادی میں منگنی، کھانا اور جہیز اور جوڑے کی رقم لڑکی والوں سے خوشی سے دینے کے نام پر لی جارہی ہو۔ گیارہ ہزار مہر باندھ کر گیارہ لاکھ خرچ کروائے جارہے ہوں، یا لڑکی والے خود سنت سے انحراف کرکے اپنی خوشی سے خرچ کررہے ہوں، جس شادی میں مہر نقد ادا نہیں کیا جارہا ہو، کیا اس شادی کا دعوت نامہ قبول کرنا جائز ہے؟ کیا اس شادی میں چاہے وہ کتنے ہی قریبی عزیز کی کیوں نہ ہو، شرکت کرنا اور کھانا جائز ہے؟ سوائے چند علمائے حق کے کوئی اس موضوع پر بات کرنا نہیں چاہتے، لیکن نکاح کے منشائے شریعت کے پیش نظر، ایسی شادیوں میں شرکت کیوں ناجائز ہے، یہ لوگوں کو بتایا جائے۔ اس سلسلے میں جتنے بھی علمائے حق ہیں جن میں بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث علما شامل ہیں، ہم ان کے فتوے آپ تک پہنچا سکتے ہیں۔
نوٹ: مضمون نگار کی رائے سے ہمارا کلی طور پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔(فرنود رومی)
1 تبصرے
میرے حساب سے تو یہ نِری بکواس ہے!
جواب دیںحذف کریںمعاشرے میں جہیز کی لعنت کیا علماء نے شروع کی ہے جو اُنہیں اسکے لئے ذمّہدار ٹہرایا جائے؟
آجکل یہ فیشن عام ہے کہ کچھ بھی ہو، معاشرے میں ہونے والی ہر برائ کا ذمّہ دار اُس علاقے کا عالم، مولوی اور امام مانا جانے لگا ہے!
میرے مشایدے کے حساب سے بتانا چاہونگا کہ نَوّے فیصد برائیاں معاشرے میں نااہل سیاستدانوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے پنپتی ہیں!
اب اگر ہمارے معاشرے کا تقابلی مشاہدہ کریں تو آپکو پتہ چلے گا کہ بھارت میں معاشرہ دو حصّوں میں بٹاہےـ ایک مسلم معاشرہ اور دوسرہ غیر مسلم!
مسلم معاشرہ میں آج بھی غیر مسلم کے مقابلے برائیاں کم ہیں جو انکے علماء اور ائمّہ ہی کی بدولت ہیں!
اب رہی بات شادیوں میں بے جارسومات کی!
تو جس طرح آجکل کل ہونے والی طلاق میں اکثر قصور لڑکی والوں کا ہے اسی طرح شادیوں میں بے جا اصراف اور جہیز جیسی لعنت کو برقرار رکھنے میں بھی انکا کچھ کم ہاتھ نہیں ہے!
جب پہلی بیٹی کی شادی ہوتی جہیز دینے کو منع کرو تو کہتے ہیں یہ ہمارے یہاں کی پہلی شادی ہے! اتنا اُتنا تو کرنا ہی پڑیگا، ہم آپکو نہیں اپنی بیٹی کو دینگیں جوبھی دینا ہے! جب دوسری بیٹیوں کی شادی ہوتی ہے تو کہتے ہیں ایک بیٹی کیلئے ایسا ایسا کیا، اب دوسری کیساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں، ہمیں تو ساری بیٹیاں عزیز ہیں! اور جب سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی ہو تو کہتے ہیں یہ تو سب سے آخری شادی ہے اور وہ بھی سب سے چھوٹی بیٹی کی جو ہم سب کی سب سے زیادہ لاڈلی ہے!
جتنا سب کو دیا ان سب سے زیادہ اسکا حق ہے، کیونکہ سب سے زیادہ اسی نے ہماری خدمت کی وغیرہ وغیرہ!
اور پھر اسکے بچپن سے اسکا جہیز جوڑ کررکھاہے، اسکا کیا کریں گے؟
ایک نہیں ان گنت بہانے ہیں جن سے جہیز اس معاشرے سے ختم نہیں ہوتا!
اور مسلم معاشرے میں پچھلے پندرہ سے بیس سالوں کا میرا ذاتی تجربہ ہیکہ کوئ لڑکی حقیقتاً جہیز کی کمی یامائکے سے نقد رقم لانے کے نام پر جلائ، ماری پیٹی یا چھوڑی نہیں گئ!
گھریلو ہِنسا کی وجوہات تحقیق کرنے پر کچھ اور ہی نکلتی ہیں!
مگر چونکہ قانون کی نظروں میں اسکی کوئ وقعت نہی ہوتی اور وکیلوں کے مشورے یہی دو تین دفعات پر آکر ٹک جاتے ہیں کہ لڑکے والوں پر ایسے ایسے الزامات لگا کر انہیں کورٹ کچہریوں کے چکّر لگوا کر لمبا کرو!
تو کیا قانون کا غلط استعمال علماء کی شَہ یا منشاء سے ہو رہاہے؟
ہرگِز نہیں!
علماء پر اسکی ذمّہ داری صرف اُس وقت عائد ہوگی جب علماء اپنی سسرال سے جہیزکی لالچ رکھیں گے!
مگر ایک بھی عالم یا امام یا مولوی ایسا نہ ملیگا جو اسمیں ملّوث ہو!!
اب رہی کیرالہ حکومت کے اسٹوڈنٹس سے بانڈ سائن کروانے کی!
تو یہ ایک انتہائ مضحکہ خیز عمل ہے!
کیا جہیز لینے کے جرم میں کیرالہ میں اب تک قانونی کاروائ نہیں ہوتی تھی جو بانڈ لکھوا کر کاروائ کروائ جارہی ہے؟
کیا چوری، ڈاکہ، ریپ اور قتل جیسے گناہ کرنےکی اجازت ہے؟ یا اسکے لئے بھی بانڈ لکھواکر کمی لائ گئ ہے؟
دوسری بات کیا بانڈ لکھ کر دے دینے سے کوئ اسکا پابند ہو جاتاہے؟
مہاراشٹر میں دو سے زیادہ بچّے پیدا کرنے پر قانوناً پابندی ہے!
اسکا بانڈ لکھ کر دینا ہوتاہیکہ میرے ستمبر ۲۰۰۲ کے بعد سےکوئ تیسرا بچّہ نہیں ہے اور نہ ہوگا ورنہ میں اپنی نوکری، اپنے سیاسی عہدہ کیلئے نااہل قرار دیا جاؤنگا!
اور کمال کی بات تو یہ ہیکہ یہ بانڈ وہ بھی لکھ کر دیتے ہیں جو کئ اولادوں کے باپ ہیں یا لکھ کر دینے کے بعد بھی انکی زائد اولادیں ہوتی ہیں بلکہ کئ لوگ تو اپنے بچّوں کو دوسروں کی اولاد کہکر حکومت کے رجسٹر میں نام لکھواتے ہیں!
اور اسمیں نوکری پیشہ سے لیکر سیاسی عہدیدار تک سبھی " مہذّب و معزّز" ماناجانے والا سماج ہوتاہے!
کوئ اسپر اُف تک نہیں کرتا بلکہ الٹے اسکے اس جھوٹ یا مکّاری پر اسکی ہمدردی کی جاتی ہے!
تو ایسے سے گناہ ختم کہاں ہوا! وہ تو صرف کاغذوں میں آنا کم ہوگیا!مگر واقع تو پہلے سے زیادہ منظّم طور پر ہوتاہے!
ہونا تویہ چاہئے کہ عوام کو علماء کی پیروی کیلئے اُکسایا جائے، انہیں انکی باتوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سرزنش کی جائے مگر بجائے اسکے ہم الٹے علماء کو اسکا ذمّہ دار کب تک ٹہراتے رہیں گے؟
ڈاکٹر دوا دے اور مریض وہ دوا گھر جاکر کوڑہ دان میں پھینک دے تو ہونے والے نقصان کا ذمّہدار ڈاکٹر کیسے ہو سکتاہے؟
سرکار نے گٹکھا بنانے، بیچنے، خریدنے اور کھانے پر مکمّل پابندی لگا رکھی ہے! دُکان کا لائسنس دیتے وقت وہ اس پر ایک بانڈ سائن کرواتے ہیں کہ میری دکان میں وہ سب نہیں بِکے گا! کیا انمیں سے کوئ ایک بھی کام بند ہوا؟
پھر علماء کو ہم نے اختیار بھی کیا دے رکھے ہیں جو انکی ذمّہ داری بنتی ہے؟ مدرسے کے استاد نے بچّہ کو پیٹ دیا تو ہم جاکر اسکے کان کھنچتے ہیں، زرا مزاج کے خلاف کوئ کام کرلے تو اسکا بوریا بستر باندھ کر اسے روانہ کردیتے ہیں! پھر انسے کیسی
اصلاح کی امّید کریں؟
بھلا جو معاشرہ اللّٰہ سے نہیں ڈرتا وہ اس فنا ہوجانے والی دنیاکے قانون سے ڈر جائےگا؟