ہائے رے ایس ایس سی بورڈ کے نتائج

از قلم : شاہد فائن، مالیگاؤں
گزشتہ سال پوری دنیا کرونا وبا سے جو دوچار ہوئی تواب تک اس سےجھوجھ ہی رہی ہے.اب تو سننے میں آرہا ہے کہ ہندوستان میں تیسری لہر ڈیلٹا پلس کی بھی آمد آمد ہے.اللہ خیر کرے۔
اس وبا نے جہاں پوری دنیا کے رواں نظام کو تہس نہس کر دیا وہیں تقریباً ہر شعبے کی گاڑی کو پٹری سے اتار دیا ہے۔اس ہڑکمپ کا شکار ہماری اپنی ریاست مہاراشٹر بھی ہوئی لیکن ملک کی دیگرریاستوں کے مقابلے، مہاراشٹر ریاست کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئی تاہم وزیراعلی،فرنٹ لائن ورکرس کی بہتر کارکردگی اورعوام کی سوجھ بوجھ نے جلد ہی اس وبا سے نپٹنے میں کامیابی حاصل کر لی..
وہیں اسکولوں اور کالجوں کے آن لائن امتحانات بھی منعقد ہوئے اور جب رزلٹ کا اعلان ہوا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.
میری رائے میں کورونا وبا کا جتنا اثرایس ایس سی بورڈ پر پڑا ہے شاید ہی ہمارے یہاں کا کوئی اورادارہ اتنا متاثر ہوا ہوگا۔ اور یہ بات میں گذشتہ روزآئے ایس ایس سی کے آن لائن رزلٹ کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں.کیونکہ رزلٹ تیار کرنے کی پوری پرتی کریا (process) اچھی طرح سے میرے علم میں ہے. مثلاً رزلٹ کس طرح تیار کیا گیا.
پہلے تو آن لائن کلاسیس ہوئیں.آن لائن پریلم امتحانات ہوئے.پھر آن لائن بورڈ کا انٹرنل امتحان ہوا۔ وہیں سائنس کے پریکٹیکل امتحان امسال سرے سے ہوئے ہی نہیں اور پھر طلباء کی آن لائن حاضری (presentee)، کو بھی سامنے رکھتے ہوئے رزلٹ تیار کئے گئے.
مجھے اس وقت بے انتہا حیرت ہوئی جب میں نے ان طلباء کا رزلٹ دیکھا جو خود میری اپنی نگرانی میں تھے۔یعنی جن طلباء نے آن لائن کلاسیں باقاعدگی سےاٹینڈ کیں، تمام نوٹس مکمل کیں، ٹیوشن کا اہتمام کیا، باقاعدہ پورا کورس بالکل اسی طرح مکمل کیا جیسے عام حالات میں اسکول جاری رہنے کے ایام میں کیا جاتا ہے۔
ان طلباء کے رزلٹس کا موازنہ جب ایسے طلباء کے رزلٹس سے کیا جائے جنہوں نے کبھی کسی ٹیوشن، آن لائن کلاسیس یا کسی گروپ اسٹڈی کا اہتمام نہیں کیا تو پتہ چلے گا کہ دونوں کے رزلٹس میں بے انتہا فرق ہے. رزلٹس تیار کرنے والوں نے ایسا کس بنیاد پر کیا ،میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
میری اپنی نگرانی میں پانچ طلباء ایسے رہے ہیں جو الگ الگ اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور انہوں نے ایک ساتھ اسٹڈی کی، ساتھ ساتھ ٹیوشن کیا، ساتھ ہی بیٹھ کر امتحان میں پرچوں کے جوابات لکھے اوران کے رزلٹس بہتر پچہتر اٹہتر نواسی فیصد آئے۔اس کے برعکس کچھ ایسے طلباء بھی ہیں جو میری اپنی خاندان، دوست و احباب میں سے ہیں، جن لوگوں نے اسکول بند ہونے سے لیکر آج تک کبھی اسکول کی بات تک نہیں کی، نا کتاب و بیاض کی حصولیابی کے لیے جدو جہد کی اور ناہی کبھی رزلٹ کے بارے میں سوچا۔ بلکہ کچھ تو چھوٹے موٹے کام دھندے پر بھی لگ گئے اورتعلیمی سرگرمی میں کسی طرح کا بھی حصہ نہیں لیا۔بس دوران امتحان کسی کا جوابی پرچہ نقل کر کے جمع کروا دیا آپ کو حیرت ہوگی کہ ان طلباء کے رزلٹس اٹھاسی بیانوے یہاں تک کہ چورانوے فیصدتک آئے ہیں.
میری زیر نگرانی ایسے پانچ طلباء کا رزلٹ ان گیارہ بچوں سے بے انتہا کم آیا ہے جو گیارہ بچے،دورانِ امتحان ان پانچ طلباء کا جوابی پیپر لے کر کاپی کِیا کرتے تھے، اب یہ پانچ طلبہ مجھ سے استفسار کر رہے ہیں کہ ایسا کیسے ہوا اور کیونکر ہوا؟؟؟
کیا اس سوال کا جواب شہر کی تعلیمی سرگرمیوں میں نمایاں رہنے والے حضرات، ایجوکیشنل کاؤنسلرس، اکیڈمک انٹلیکچولس، یا پھرماہرین تعلیم مثلاً مبارک کاپڑی یامنور الزماں صاحبان وغیرہ دیں گے؟ جوطلباء کی بروقت رہنمائی کےلئے جانے جاتےہیں، تاکہ ان بچوں کو مطمئن کیا جا سکے جنہوں نے جی جان سے محنت کی مگر پھر بھی ان طلباء سے کم فیصدی مارکس حاصل کیا جن کی وہ خود رہنمائی کِیا کرتے تھے.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے