طلبہ کی تعلیمی ‏کامیابی ‏پر استقبالیوں ‏کی ‏ریس

از قلم : حفظ الرحمن ابواللیث، مالیگاؤں
پیارے دوست ہاشم انصاری نے ایک دلچسپ موضوع اٹھایا ہے، لکھتے ہیں۔
اگر مالیگاؤں کے طلباء یہ فیصلہ کر لیں کہ تعلیمی کامیابی کے بعد تحائف اور گلدستہ صرف اپنے سے زیادہ پڑھے لکھے شخص سے ہی قبول کریں گے تو شہر سے یہ استقبالیہ والی بدعت ختم ہو جائے۔
اس معاملے پر غور کیا تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔ ایسے موقعوں پر مبارکباد دینے والوں میں جو افراد پیش پیش رہتے ہیں، ان میں اکثر گریجویٹ بھی نہیں ہوتے۔ ان کی مبارکبادی کا مقصد طلباء کی ہمت افزائی سے کہیں اپنی تصاویر وائرل کرنے کا ہوتا ہے۔ طلباء اپنی شبانہ روز محنت سے کامیابی حاصل کرتے ہیں اور جب وہ اپنی جی جان توڑ کر محنت کررہے ہوتے ہیں اس وقت یہی مبارکباد دینے والے افراد ادھر ادھر بیٹھے فضول بحثوں میں مصروف ہوتے ہیں اور جوں ہی طلباء کامیابی حاصل کرتے ہیں یہ نکڑوں کا باکڑے چھوڑ کر انہیں مبارکباد دینے دوڑ پڑتے ہیں اور واپس آکر پھر انہی باکڑوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔
میرا ایک عزیز دوست گزشتہ چار پانچ برسوں سے مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہورہا ہے۔ اسٹڈی کے پیش نظر اس کا شیڈول اتنا سخت ہے کہ کبھی کبھار ہم ملنا چاہیں بھی تو اس کے شیڈول کو دیکھ کر ارادہ ترک کردیتے ہیں۔ یہاں تک کے اس کے شیڈول کے مدنظر میں نے اسے اپنی شادی میں بھی مدعو نہیں کیا کہ جو وقت وہ میری شادی کی تقریبات میں گزارے گا اس سے اس کی اسٹڈی متاثر ہوگی۔ شاید وہ میرے مدعو نہ کیے جانے پر ناراض بھی ہوا ہو لیکن مجھے اس کہ ناراضی کی کوئی پرواہ نہیں کیوں کہ میرے فیصلے میں اخلاص تھا۔
میرے اس دوست کا نام شہر کے یہ 'استقبالیے' نہیں جانتے، انہیں اس وقت اس کا علم ہوگا جب ان شاءاللہ العزیز وہ کامیابی حاصل کرلے گا اور اس وقت بھی یہ 'استقبالیے' اس کے ہاں پھول گلدستے وغیرہ لے کر دوڑ پڑیں گے، اور میں تب بھی اسے محض ایک ٹیکسٹ میسیج کرنے پر اکتفا کروں گا۔
نوٹ: مراسلہ نگار کی رائے سے ہمارا کلی طور پر اتفاق کرنا ضروری نہیں.(فرنود رومی)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے