از قلم : فرنود رومی
جدید اردو و جدیدصحافت کے بانیان میں سے ایک مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ، اپنے اخبار الہلال میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ،
"اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہئے اور چاندی وسونے کا سایہ بھی اس کے لئے سمّ ِ قاتل ہے، جو اخبار نویس.. رئیسوں کی ضیافتوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی عطیوں،قومی امانت اور اسی طرح فرضی ناموں سے قبول کرلیتے ہیں، وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور نورایمان کو بیچیں، بہتر ہے کہ َدریوزہ گَری کی جھولی گلے میں ڈال کر قلندروں کی کِشتی کی جگہ قلم دان لے کر رئیسوں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور گلی کوچہ ”قلم ایڈیٹری کا“ کی صدا لگا کر خود اپنے تئیں فروخت کرتے رہیں۔“
(الہلال،27جولائی، 1912،مطبوعہ اتر پردیش، اردو اکادمی لکھنؤ)
محترم قارئین! آج شہر مالیگاؤں کی حالت یہ ہے کہ شہر کی صحافت کا معیار حد درجہ گر چکا ہے.صحافت کا رجحان منفیات کی طرف زیادہ ہے۔ کم ہی لوگ بے داغ صحافت کررہے اور اس کا صحیح معنوں میں حق ادا کر رہے ہیں۔
ہمارے یہاں اکثریت ایسے نام نہاد صحافیوں کی ہے جن کی اردو ٹھیک ہے اور نہ انگریزی۔کچھ ایسے بھی ہیں کہ جب منہ کھولیں تو خوداردو زبان شرماجائے، اس قدرخراب لب و لہجہ ہے کہ پوچھیے مت،بس اللہ ہی حافظ ہے۔ اور بعض ایسےہیں جو اخبار کی گھڑی لگاتے لگاتے اور اخبار بانٹتے بانٹتے صحافی بن بیٹھے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ جو نئے صحافی اپنےیوٹیوب چینلس اور بلاگز کو ذریعہ بناکر شہر کے لیے کچھ کر رہے ہیں یا کرنا چاہتےہیں،ان کی خدمات و اہمیت کو یہ نام نہاد صحافی(متصحافی) سرے سے نظر انداز کردینا چاہتے ہیں اور کبھی دبے لفظوں تو کبھی کھلے لفظوں انہیں اپنی تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں،حالانکہ اس معاملے میں وہ ناکام بھی رہے ہیں۔جب کچھ نہیں بن پڑتا تو یہ متصحافی حضرات اپناوہی گھساپٹا جملہ دہراتے ہیں کہ کیا تمہارے پاس ہمارے اخبارات کی طرح لائسنس (آراین آئی نمبر) ہے؟ یعنی آپ کے پاس لائسنس نہیں تو آپ صحافی نہیں.حالانکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ نئے صحافی، اِن لائسنس یافتہ تاہم غیر سندیافتہ پارٹ ٹائم ہاکرس و پارٹ ٹائم رپورٹرز (Hawker cum Reporter) سے بہتر اردو کو برتنا جانتےہیں، جن کی نیوز رپورٹوں میں املے کی بے شمار غلطیاں بلامبالغہ آج بھی پائی جاتی ہیں.ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پرنٹ میڈیا و الیکڑانک میڈیا کے اراکین باہم مثبت فکر لیے،ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے شہر کی ترقی کے لیے کوشاں ہوتے.لیکن حیف ہے انکی چَوَنّی جیسی سوچ پر!
ہمارے یہاں اکثریت ایسے نام نہاد صحافیوں کی ہے جن کی اردو ٹھیک ہے اور نہ انگریزی۔کچھ ایسے بھی ہیں کہ جب منہ کھولیں تو خوداردو زبان شرماجائے، اس قدرخراب لب و لہجہ ہے کہ پوچھیے مت،بس اللہ ہی حافظ ہے۔ اور بعض ایسےہیں جو اخبار کی گھڑی لگاتے لگاتے اور اخبار بانٹتے بانٹتے صحافی بن بیٹھے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ جو نئے صحافی اپنےیوٹیوب چینلس اور بلاگز کو ذریعہ بناکر شہر کے لیے کچھ کر رہے ہیں یا کرنا چاہتےہیں،ان کی خدمات و اہمیت کو یہ نام نہاد صحافی(متصحافی) سرے سے نظر انداز کردینا چاہتے ہیں اور کبھی دبے لفظوں تو کبھی کھلے لفظوں انہیں اپنی تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں،حالانکہ اس معاملے میں وہ ناکام بھی رہے ہیں۔جب کچھ نہیں بن پڑتا تو یہ متصحافی حضرات اپناوہی گھساپٹا جملہ دہراتے ہیں کہ کیا تمہارے پاس ہمارے اخبارات کی طرح لائسنس (آراین آئی نمبر) ہے؟ یعنی آپ کے پاس لائسنس نہیں تو آپ صحافی نہیں.حالانکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ نئے صحافی، اِن لائسنس یافتہ تاہم غیر سندیافتہ پارٹ ٹائم ہاکرس و پارٹ ٹائم رپورٹرز (Hawker cum Reporter) سے بہتر اردو کو برتنا جانتےہیں، جن کی نیوز رپورٹوں میں املے کی بے شمار غلطیاں بلامبالغہ آج بھی پائی جاتی ہیں.ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پرنٹ میڈیا و الیکڑانک میڈیا کے اراکین باہم مثبت فکر لیے،ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے شہر کی ترقی کے لیے کوشاں ہوتے.لیکن حیف ہے انکی چَوَنّی جیسی سوچ پر!
تحفے تحائف اور دعوتوں کا سن،ان نام نہاد حریص مال وزر پترکاروں کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔مختلف شخصیات خصوصاًسیاسی لیڈران اور پولس آفیسران کے ساتھ فوٹو بازی کر کے،اپنے بڑے پن کا دھونس جمانے والے، اِن اپنے منہ میاں مٹھو ،خود سے خود کو سینیئر لکھنے والےان نام نہاد نہاد صحافیوں سےآپ ہوشیار رہیں۔یہ صحافی نہیں ہیں۔یہ دراصل صحافت کی آڑ میں اپنا گورکھ دھندہ چلانے والے افراد ہیں.یہ ایسےبکاؤ اور مصلحت کوش افراد ہیں جوصحافت کی قبائے سفید کی اوٹ میں اپنی جیبیں گرم کر رہے ہیں۔سیاسی افراد کی ہاں میں ہاں ملانا انکی عادت سی ہو چکی ہے۔مولانا آزاد کے بقول ایسے صحافیوں نے اپنے ضمیر اور نورِایمان دونوں کا سودا کر ڈالا ہے۔یہ شہر کے حق میں کبھی مفید ثابت نہیں ہوسکتے۔ایسے افراد کو مخلص ہرگز نہ گمان کریں۔یہ شہرت اور دعوتوں کے دلدادہ، عوام کی ترقی کے دشمن اور سیاسی مہرہ ہیں کہ جس طرف چاہا،ان کا رخ پھیردیا۔
پچھلے دنوں ایک خبر مع تصاویرنظر سے گذری کہ ایک بڑے سیاسی لیڈر کی کسی نئی پارٹی میں شمولیت اور ایک بڑے عہدے سے سرفراز کیے جانےپر صحافیوں کی ایک ٹولی ان کا پھول ہار کرنے و مبارکبادی پیش کرنے پہونچ گئی ہے.اب بتائیں بھلا! جانبدارانہ صحافت کی اِن سے امید کیسے کی جائے؟
حقیقی بات یہ ہے کہ سماج کی صحیح تصویر پیش کرنا اور آئینہ کی سی عکاسی کرناایک صحافی کا کام ہے۔صحافی امتیاز خلیل کا یہ قول کہ جس شہر کی صحافت اچھی نہیں اس شہر کی انتظامیہ بھی اچھی نہیں ہوسکتی،واقعی میں ایک حقیقت آمیز جملہ ہے.جانبدار ہو کر،کچھ لے دے کر،ڈر کر یا دب کر لکھنے والا شخص صحافی ہرگز نہیں ہوسکتا، ہاں البتہ کسی کا چیلا یا ذہنی غلام ضرور ہو سکتا ہے جو اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے اخبار نکالتا ہو، نیزمعترضین و نکتہ چینوں کے جوابات لکھنے کے عوض اپنے آقا کی شاباشی اور واواہی کےساتھ چند کرارے نوٹ نمک حلالی کے وصول کر اپنی بے ضمیری پرتکیہ کر بیٹھا ہو۔
حقیقی بات یہ ہے کہ سماج کی صحیح تصویر پیش کرنا اور آئینہ کی سی عکاسی کرناایک صحافی کا کام ہے۔صحافی امتیاز خلیل کا یہ قول کہ جس شہر کی صحافت اچھی نہیں اس شہر کی انتظامیہ بھی اچھی نہیں ہوسکتی،واقعی میں ایک حقیقت آمیز جملہ ہے.جانبدار ہو کر،کچھ لے دے کر،ڈر کر یا دب کر لکھنے والا شخص صحافی ہرگز نہیں ہوسکتا، ہاں البتہ کسی کا چیلا یا ذہنی غلام ضرور ہو سکتا ہے جو اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے اخبار نکالتا ہو، نیزمعترضین و نکتہ چینوں کے جوابات لکھنے کے عوض اپنے آقا کی شاباشی اور واواہی کےساتھ چند کرارے نوٹ نمک حلالی کے وصول کر اپنی بے ضمیری پرتکیہ کر بیٹھا ہو۔
ہمیں امید ہے کہ اب جبکہ شہر کے بیدار مغز لوگوں نے بھی صحافت میں قدم رکھ دیاہے اور وہ اپنے ویڈیوز،بلاگز اور اخبارات کے ذریعےعوامی مسائل اور انکے حل کی طرف انتظامیہ کی توجہ مبذول کرواناچاہتے ہیں، یہ شہر ترقی کی جانب تیزی سے آگے بڑھے گا۔ہماری نیک خواہشات ایسی مثبت اور تعمیری سوچ رکھنے والےصحافیوں کے ساتھ ہیں۔
ایک اچھا صحافی کون؟،اس حوالے سے محترم امتیاز خلیل (سینیئر جرنلسٹ) نے بڑی عمدہ باتیں اپنے صدارتی خطبہ بموقع آل مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا تربیتی ورکشاپ میں روز رکھی تھیں۔جرنلزم سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے استفادے کے لیے ویڈیو لنک نیچے دی جارہی ہے.
مشکل الفاظ کے معانی: سمّ ِ قاتل – مہلک زہر، (مجازی معنی) نہایت نقصاندہ
ضِیافت – دعوت
دریوزہ گری – بھیک مانگنا،گدائی
کِشتی- بھیک مانگنے کا پیالہ ،کشکول،کاسہء گدائی
قلمدان – صندوقچی جس میں قلم ،دوات اور چاقو رکھا جاتا ہے۔
0 تبصرے