عالمی یومِ کتاب پر ایک ماتمی تحریر
از فرنود رومی/ ٢٣ اپریل،٢٠٢٢
بڑا سنہرا دور تھا وہ۔کتابوں کے پنّوں کی خوشبوؤں والا. خوشبو مَلے، دل و جگر انڈیل کر چسپاں کئے ہوئےخطوں کے انتظار والا۔اپنی کسی تخلیق کی اشاعت پر خوشیوں سے جھوم جانے والا۔کسی اخبار کے انعامی مقابلے میں چھوٹا موٹا انعام پانے پر گلی محلے میں چرچا کر کے دادو تحسین چاہنے والا.
جب تک ہم ان کاغذوں سے قریب رہے، خوش رہے، شاداں و فرحاں رہے۔زندگی مکمل معلوم ہوتی تھی۔اوراب جب کہ ان سے دور ہوچکے ہیں اور الیکٹرانک گیجیٹس ہمارے ہاتھوں میں آگئے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی میں ایک خالی پن سا آگیا ہے۔کوئی خلا ہے جو پُر نہیں ہوپاتا.
وہ معیاری رسالے اور اخبارات ایک وقت جن کا طوطی بولتا تھا اب وہ معاشی دشواریوں، قارئین کی بڑھتی کمی اورخریداری میں زبردست گراوٹ کے سبب بند ہوچکے ہیں۔اور اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں.
وہ بچے جو ان رسالوں اور اخبارات کو خریدنے کے لیے کبھی بکڈپوز کے چکرلگاتے نہیں تھکتے تھے آج وہی بکڈپوز ان کی راہ تکتے گرد آلود ہوچکے ہیں۔اب محمد علی روڈ پر واقع کتب فروش انکل سے کوئی بچہ کتابیں ادھار لینے بھی نہیں آتا۔جس کی دائیگی انہیں، ہفتوں میں کّھلے (چلّر) پیسوں کی شکل میں کی جاتی تھی.
ہم نے ٹیکنالوجی کو اس قدر سر آنکھوں پر بٹھالیا کہ اپنی پرانی قدریں بھول گئے.اور نتیجتاً ان انمول خوشیوں اور احساسات سے بھی محروم ہوگئے.
آج ایک فنگر ٹپ کے نیچے آج لاکھوں پی ڈی ایف کتابیں موجود ہیں مگر اب ویسا احساس نہیں ملتا جو پہلے ہوتا تھا۔موبائیل یا کمپیوٹر پر پی ڈی ایف کتابیں پڑھنا شروع کریں تو آنکھیں دکھنے لگتی ہیں۔وہ بھی دن تھے جب کسی کتاب کو ختم کرتے کے چکر میں مؤذن کی "الصلاة خیر من النوم" کی صدا پر کتابیں بند کی جاتیں۔
ہمیں آج ضرورت ہے اپنے آپ کو اور نئی نسل کو، ان کتابوں سے قریب کرنے کی، ان کی ورق گردانی کروانے کی۔وگرنہ جدید دور کی ترقی نے یہ جو خالی پن پیدا کردیاہے، اس کی اذیت ناکی ہماری زندگی کا حصہ بن جائے گی.

0 تبصرے