پوچھتے ہیں، ابابیلیں کب آئیں گی؟


ہر مذہب کی اپنی ایک عبادت گاہ ہوتی ہے.عموماًوہاں جاتے وقت آدمی خود کو پاک و صاف کرکے جاتا ہے.
مسجدوں میں تو ہم جاتے ہی رہتے ہیں.وہاں پہنچ کر دل کی کیفیت ہی الگ ہوجاتی ہے.کیوں کہ  وہاں روح کو اس کی غذا "روحانیت" مل گئی ہوتی ہے.

البتہ کچھ باتیں جو طبیعت کو مکدّر کرجاتی ہیں اور بعض اوقات خوف و دہشت میں مبتلا کر دیتی ہیں، وہ عموماً دیواروں پر اپنے اپنے مسلک کے حوالے سے لکھی گئی شرائط اور سخت جملے ہوتے ہیں جو ان سبھی خوشگوار کیفیات کو مجروح کرجاتے ہیں۔اور پھر ہوتا ہوں ہے کہ آدمی مخصوص مسجدوں ہی میں جانے کا من بنالیتا ہے.

ایک غیر مسلم بھائی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ اتفاقاً ان کا گردوارہ جانا ہوا.وہاں انہوں نے یہ دیکھا کہ ہر مذہب کے لوگوں کو آنے کی آزادی ہے.بس سر ڈھانکنا ضروری ہوتا ہے.کوئی بھید بھاؤ اور کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی.مزید یہ کہ لنگر کا انتظام ہر خاص و عام کے لیے بلاتفریق مذہب ہوتا ہے.آپ ٹوپی کرتا میں بھی چلے جائیں تو کوئی آپ کو اوپر سے نیچے تک نہیں دیکھے گا۔

ہم نے کہا، یہ تو ان کا طریقہ ہوگا اپنے مذہب کی اشاعت کا اور دوسروں کو متاثرکرنےکا۔ پرانے وقتوں میں لنگر والا نظام صوفیت سے منسلک ہمارے بزرگوں نے اپنی خانقاہوں میں قائم کیا ہوا تھا، جس سے دوسرے مذاہب کے لوگ ان سے قریب ہوتے، اسلام کو سمجھتے اور متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوتے.

ہمارے آخری نبی، جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قیدیوں کو مسجد نبوی کے ستون سےباندھ دیا جاتا۔اوران کے سامنے ایسے اعلیٰ اخلاقی نمونے پیش کیے جاتے کہ وہ یا تو زندگی بھر کے لیے متاثر ہوجاتے یا پھر مشرف بہ اسلام ہوجاتے۔

آج ہمیں اپنے اخلاق درست کرنے کی ضرورت ہے۔آج ہماری زبانیں بے لگام، نیتیں غیر خالص اور معاملات (خواہ سماجی ہوں یا کاروباری) انتہائی خراب ہیں۔ ہمارے اعمال مسلمانوں کے سے نہیں رہے۔بس ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں جنہوں نے ظاہری لباس کو ہی اسلام کا اہم جزو سمجھ لیا ہے۔ جب کہ دل میں کجی ہے اور اللہ کا تقوی (اس کا ڈر) موجود نہیں ہے۔  

آج ہم جو باہم دست وگریباں ہیں، ایک کلمہ پڑھنے والا دوسرے کلمہ گو کو مسلمان نہیں سمجھتا.مسلکی (فقہی و نظریاتی) اختلافات کی بنا پر دوریاں بنی ہوئی ہیں.اس سب کا آخر سبب کیا ہے؟

 دشمنانِ اسلام ہمیں اپنے ظلم کا مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، کیوں کہ ہم لوگ مختلف گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ہمارے اندر اکائی نہیں ہے۔
اس پر طرہ یہ کہ پھر ہم اپنی زبوں حالی، پسماندگی اور تنزلی کا رونا روتے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ابابیلیں آخر کب آئیں گی؟

اس لیے لازم ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد کو باقی رکھیں۔سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہوجائیں۔مسجدیں، چونکہ اللہ کا گھر ہیں، لہذا وہاں بلا تفریق مسلک، صالح العقیدہ کلمہ گو مسلمانوں کو آنے کی اجازت دیں۔ آپسی بھائی چارہ اور میل جول کو فروغ دیں۔

دنیا میں جہاں جہاں ( فلسطین، شام، برما وغیرہ) مسلمانان پریشان اور ظلم و بربریت کا شکار ہیں، ان کے لیے دعا کریں اور اپنی طاقت و استطاعت کے مطابق ان کا سپورٹ کریں اور ظالموں کو فنڈنگ کرنے والے سرمایہ داروں اور ان کی کمپینوں کے پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرکے ان کے خلاف اپنی ناراضگی اور غصے کا اظہار کریں۔ 

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دوسروں کے لیے نفع بخش اور نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا سچا متبع اور پیروکار بنائے اور ہمیں زندہ رکھے تو عمل صالح کے ساتھ ایمان پر رکھے اور ہمارا خاتمہ ایمان بالخیر پر فرمائے۔آمین

 11 جولائی، 2022

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے