از قلم ؛ فرنود رومی
گھر کے سامنے ہی شادی ہے.شامیانہ آدھی سڑک پر لگا ہوا ہے.اور اسی پر بس نہیں، ڈھول تاشے کا جو دور چل نکلا ہے تو تھمنے کا نام نہیں لے رہا.
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ سب ایک مسلم گھرانے میں ہورہا ہے.اور بغل ہی میں ایک کارخانہ چھوڑ کر مسجد ہے.
رات 9 بجے سے جو قسم قسم کی ڈھولکیں بجنی شروع ہوئی ہیں تو اب تک ان کے شور نے فضا میں ایک طوفان بپا کر رکھا ہے.
ایسے میں، مجھے وہ علماء حضرات یاد آگئے جنہوں نے حال ہی میں ایک پرچہ جاری کیا تھا کہ ایسی رسومات والے گھروں کے نکاح نہیں پڑھائے جائیں گے.
اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا نکاح کون سے "مولوی ساب" آنکھ بند کر کے پڑھاتے ہیں؟
ویسے یہاں یہ سوال بھی قائم ہے کہ مولوی صاحب کو پتہ کیسے چلے گا کہ ان نادانوں نے نکاح والے دن سے قبل کی رات کو خوب انگار مُ و ت ا ہے؟؟
2 جون ،2022
0 تبصرے