از ؛ فرنود رومی، مالیگاؤں
ہم کتنے عجیب لوگ ہیں....لوگوں کو متاثر کرنے کی فکرو فراق میں اپنی زندگی کا زیادہ ترحصہ گذار دیتے ہیں.
اور...افسوس ناک بات یہ ہے کہ...
ہمارے مر جانے پر کسی کو چنداں فرق نہیں پڑتا.
چند دن یاد رکھنے کے بعد لوگ بھول جاتے ہیں.
کسی کی زندگی میں آپ کے جانے سے کوئی بھونچال نہیں آتا۔ چند روز بعد سب نارمل لائف گزارنے لگتے ہیں.
کرسٹوفر واکن کے الفاظ میں، کہ اگر آپ کو پتہ چل جائے کہ لوگ مردے کو (دفنانے کے بعد) کتنی جلدی بھول جاتے ہیں ، تو آپ دوسروں کو امپریس (متاثر) کرنا چھوڑ دیں گے.
یہاں سبق یہ ملتا ہے کہ....
جتنی زندگی ملی ہے، اس کی قدر کرو ، اسے فضول کاموں میں نہ لگاؤ اور۔۔۔
دوسروں کو impress کرنے کا چکر تو بالکل چھوڑ ہی دو.
دلِ درد مند رکھو.
اپنے ماں باپ اور اپنی فیمیلی کا خیال رکھو۔
ضرورت مندوں کی مدد کرو۔
کسی کا دل مت دکھاؤ۔
ہر کسی کے کام آؤ.
نکتہ چینی جائز جگہوں پر کرو.
لوگوں کے ساتھ درگذر کا معاملہ رکھو.
اور اپنے سےکمتراور چھوٹوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ.
یہ چند روزہ زندگی آسان ہو جائے گی.
~5 جون، 2022
0 تبصرے