نظم گدھے پر تبصرہ

(اس مزاحیہ نظم نے واقعتاً اہم سماجی و معاشرتی مسائل پر بڑی عمدہ ضرب کاری کی ہے.شاداب انجم صاحب کے شکریے کے ساتھ پیشِ خدمت ہے.)

عنوان : " گدھے" 
از: شاداب انجم 
مختصر تبصرہ : فرنود رومی

میں نے جب اس سے مذاقا" کہہ دیا، "کیا رے گدھے"
اس نے بھی فورا" پلٹ کر یہ کہا "جا بے گدھے"

[غالباً ایک سال قبل اپنی کامیابی کے نشے میں چُور اور اپنی علمیت پر مغرور شہر کے ایک صحافی کا کچھ اسی طرح کا ایک آڈیو میسیج واٹسپ پر موصول ہوا، تو ہم نے بھی موصوف کے "کہے" کو "ڈھینچوں ڈھینچوں" گردانتے ہوئے انہیں انتہائی باعزت طریقے سے اپنی بلاک لسٹ میں شامل فرما دیا۔]

میرے بھولے پن کو، میری سادگی کو دیکھ کر
جو گدھا کہتے ہیں ہم کو، خود ہی وہ ہوں گے گدھے 

[فیس بک اور یوٹیوب پر جب کبھی شرپسند اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر، اپنے آقاؤں کو اپنا باپ تسلیم کرتے ہوئے، محض ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے زہر افشانی کرتے ہیں تو ہم ان کے اس زہر کا تریاق جانتے ہوئے بھی صبر کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں، کہ یا خدا یہ تیرے نادان بندے ہیں.انہیں عقل جیسی نعمت سے سرفراز فرما۔]

قابلیت پر ملے ترجیح، رشوت کو یہاں 
ایک ہی عہدے پہ فائز ہو گئے، گھوڑے، گدھے

[آج یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ تعلیمی مافیاؤں نے زیادہ پیسہ دینے والے امیدواروں، کی تقرری کر کے تعلیمی نظام کو یکسر خراب کر رکھا ہے، نتیجتاً ڈھور قسم کے بچوں کی کھیپ کی کھیپ آنے لگی ہے، جو future کو فٹورے اور nature  کو نٹورے پڑھنے کے ساتھ ساتھ carrier  اور career میں فرق نہیں جانتے، نتیجتاً ان کا career داؤ پر لگ گیا ہے.]

دیش میں سنسد بھون ہی وہ عمارت ہے جہاں 
ایک ہی چھت کے تلے مل جائیں گے سارے گدھے

[اس پر کیا لکھوں سوائے افسوس کرنے کے، کہ لیڈر بننے کے لیے تعلیم یافتہ اور ویژنری (visionary) ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے۔اکثر کا ریکارڈ خراب ہی ہوتا ہے.وہ دن کب آئے گا جب سیاست میں داخلے کے لیے سخت اصول و ضوابط مرتب کیے جائیں گے اور "امیدوار کا تعلیم یافتہ اور no criminal charges against him ہوناضروری ہے" پہلی شرط ہوگی۔]

لیڈروں کو مَیں گدھا کہہ کر مخاطب کیا ہوا
سن کے میری بات شرمندہ ہیں بے چارے گدھے

[سچ ہے، بے ایمان قسم کے سیاستدانوں کا گدھے جیسے معصوم جانور سے موازنہ کرنا کہاں کا انصاف ہے جناب والا؟]

چھوڑ کر انجم، حسین و مہ جبیں کو آج کل 
لکھ رہے ہو تم گدھوں پر، تم بھی ہو کتنے گدھے 😀

[کیا کریں کہ حالات مجبور کردیتے ہیں لب کشائی کرنے پر، وگرنہ جن کے بارے میں اکثر وبیشتر لکھا جاتا ہے وہ ضمیر فروش اس قابل نہیں ہیں کہ ان پر خامہ فرسائی کی جائے۔]

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے