منماڑ سے مالیگاؤں ٹیکسی کا سفر رومانچک بھی اور صبر طلب بھی

از قلم؛ فرنود رومی
اگر آپ کی ٹرین منماڑ اسٹیشن پر رات بارہ بجے کے قریب پہنچی ہو تو آپ کے ماتھے پر شکن پڑنا لازمی ہے.کیونکہ رات بارہ بجے کے بعد سرکاری بسیں ملتیں نہیں.ٹیکسی والوں کے اپنے نخرے ہوتے ہیں.موڈ پر بھی چلتے ہیں۔اور اگر انہیں پتہ ہو کہ خاطر خواہ  سیٹیں نہیں ملیں گی تو آپ کو کئی گھنٹے منماڑ ہی میں اٹکنا پڑسکتا ہے.
ایسے وقت مسافروں سے بھر رہی کسی ٹیکسی کا مل جانا یا کسی سرکاری بس (خال خال ہی ایسا ممکن ہے) کا پالینا آپ کی خوش نصیبی سمجھیں جائے گی.
مان لیجیے آپ کی ٹرین منماڑ دس بجے سے قبل پہنچ گئی اور آپ نے ٹیکسی سے سفر کا من بنالیا ہے تو مالیگاؤں جانے والی کسی مسافربھرتی ٹیکسی میں گھس کر بیٹھ جائیے۔مگر ٹیکسی ابھی نہیں چلے گی۔جب تک اس میں ٹھونس ٹھونس کر مسافروں کو بھر نہ لیا جائے، ڈرائیور صاحب کو اطمینان  نہیں ہوگا.اب اسی چکر میں آپ کا ایک یا سوا گھنٹہ آرام سے نکل سکتا ہے۔آپ بھلے دردمندانہ آواز میں صدا لگاتے رہیں کہ بھائی "ٹیکسی نکالو یار"، وہ آپ کی ایک نہیں سنے گا۔اسے بس ایک ہی دھن سوارہوگی۔اس نے مصمم عزم کیا ہوگا کہ مجھے ٹیکسی میں مسافر ٹھونس ٹھونس کر ہی نکلنا ہے.
خدا خدا کر کے بالاخر ٹیکسی بھرگئی۔مختلف موڈ والے مالیگاؤں کے شہری اس میں بیٹھ گئے۔کچھ ہی دیر میں آپ کے کان شہر کی حالت زار کا رونا ایک دو مہذب گالیوں (کمینہ، کتا وغیرہ) کے ساتھ لازمی سنیں گے.اسی بیچ ڈھکے چھپے لفظوں میں لیڈران کا نام بھی آجائے کوئی بعید نہیں.آدھے گھنٹے کی درمند اور فکرمند بحث کے بعد گہری خاموشی سے آپ کا واسطہ پڑے گا۔چند لوگ جھپکیاں لیتے، اونگھتے نظر آئیں گے، کچھ اپنے موبائیلوں میں لگے ہوں گے.اور کچھ مالیگاؤں پہنچنے کے بعد اپنی آنکھ کھولتے مسلتے نظر آئیں گے.
اہم بات یہ ہے کہ آج کل ٹرینوں کی توڑ پھوڑ کے سبب کئی ٹرینیں ملتوی ہوجانے کے سبب، خاطر خواہ تعداد میں مسافر نہ ملنے پر منماڑ سے مالیگاؤں کے لیے ٹیکسی کا کرایہ اب 80 روپئے کی بجائے 100 روپئے لیا جارہا ہے.اور کیوں نہ لیاجائے کہ رات گئے مالیگاؤں پہنچنے کا یہی ایک آپشن ہوتا ہے اور وہ اپنی نیندیں قربان کر کے مسافروں کی راہ تک رہے ہوتے ہیں اور ایسے کٹھن موقعوں پر ان کے لیے آسانی بن رہے ہوتے ہیں۔ وہیں اگر رات کی بسوں کا مناسب نظم ہوجائے تو صرف 55 روپئے میں مالیگاؤں پہنچا جا سکتا ہے.
بات بیس یا پچاس روپئے کی زائدادائیگی کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ بارہ بجے کے بعد ٹیکسی کے علاوہ کوئی دوسرا سادھن نہ ہونے اور خصوصاً سرکاری بسوں کی عدم دستیابی کے سبب مسافروں کو بہت جھوجھنا پڑرہا ہے۔

~26 جون، 2022

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے