سب وے راستہ، شہر کی اہم ضرورت

از ؛ فرنود رومی
آج اور اس سے قبل بارہا مچھلی بازار کے چَو رستے سے گذرتے وقت ان دو باتوں کا شدید احساس و قلق رہا..
اول تو یہ کہ،
معصوم طلبہ و طالبات کی زندگیوں کے ساتھ کس طرح جانے انجانے میں ، اتنا بڑا بجٹ ہونے کے باوجود شہری انتظامیہ کی جانب سے indirectly کھلواڑ کیاجا تارہاہے.
شہر کی اس وقت کی سب سے اہم ضرورت امام احمد رضا روڈ (بھنگار بازار) پر سب وے راستے کی تعمیر اب تک ہوجانی چاہیے تھی.
اس سے فائدہ یہ ہوتا کہ انڈرگراونڈ راستہ ہونے کے سبب روڈ پر نہ تو ٹریفک ہوتا نہ ہی آئے دن حادثات ہوتے.
روزانہ ہزاروں بچے بچّیاں آرام سے انڈر گراؤنڈ راستوں سے گزرتے ہوئے بآسانی اس روڈ پر موجود اپنے اپنے اسکول پہنچ جاتے.
اس کے علاوہ انڈر گراؤنڈ راستوں پر دکانوں کی تعمیر سے کارپوریشن کو ہی مالی فائدہ ہوتا.
علاوہ ازیں اوپر سڑک پر واقع دکانوں کو انڈر گراؤنڈ راستے کے کنارے کی جانب شفٹ کرکے عوام کو راحت پہنچائی جاسکتی اور اور آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا.
- دوم یہ کہ
آگرہ روڈ کا بریج اگر بن جاتا تو ایک حد تک بڑی گاڑیاں آسانی سے گذر جاتیں.اور مچھلی بازار سے لگ کر چَو رستےپر ہونے والی ٹریفک پر بڑی حد تک قابو پالیا جاتا.مگر....ہنوز دلی دور است...
ان ساری باتوں پر انتظامیہ غور کرکے فوری کاروائی کرلے، یہ سوچنا شیخ چِلی کے کسی خواب سے کم نہیں معلوم ہوتا.
آپ کا کیا خیال ہے؟

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے