از قلم: فرنود رومی، مالیگاؤں
ہمارے گھر کے پاس ایک اچھی بھلی عورت ہر جمعہ کو اپنے بچوں سمیت آتی ہے۔اس کے کل 4 یا پانچ خوبرو بچے ہیں۔ان کی عمریں 1 سے چھ سال کے درمیان ہونگی۔ بہت اودھم مستی کرتے ہیں اور اکثر نقصان بھی کرکے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی پاخانہ و گندگی بھی کر دیتے ہیں۔
وہیں اس عورت کو قریب کی مسجد سے نماز جمعہ کے بعد نکلنے والے نمازیوں کے ذریعے اچھی خیرات بھی مل جاتی ہے۔
مگر اس کے بچوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔جو ماں کے ساتھ یا تودھوپ میں کھڑے رہتے ہیں یا پھر گلی کے درختوں کی ٹہنیاں توڑ رہے ہوتے ہیں۔اور کوئی مصرف نہ ملا تو کیلے اور آم کھا کر اس کے چھلکے ادھر ادھر پھینک رہے ہوتے ہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایسے گداگروں کو گداگری (بھیجی مانگنے) چھوڑ کر کوئی اور کام دیکھنا چاہیے یا پھر بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگانے کی بجائے تعداد بڑھانے سے رک جانا چاہیے؟؟؟
آپ کی کیا رائے ہے؟
9 جون، 2023
0 تبصرے