شہر میں چند ہزار روپے مالیت کے موبائل چور، پاکِٹ مار،چھوٹے موٹے چور کے پکڑے جانے پر تقریباً سارے لوگ مل کر اسے بےعزت کرتے ہیں، نیوز اور ویڈیوز وائرل کرتے ہیں۔ لیکن عوامی خزانے سے کروڑوں اربوں روپیوں کے بیت المال کی چوری کرنے والوں کو پُورے شہر میں سر پر بٹھایا جاتا ہے، ہر جگہ ان کا استقبال کیا جاتا ہے، ان چوروں کو پھُول ہار پہنایا جاتا ہے، پروگراموں میں چیف گیسٹ اور مہمانانِ خصوصی کے عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ مساجد کے امام و مؤذن اور علمائے کرام کو چھوڑ کر اِن سیاسی چوروں کے بے ایمان اور ناپاک ہاتھوں سے افتتاحی تقریبات کی جاتی ہیں اور دعوت ناموں پر شان سے لکھا جاتا ہے اِفتتاح بدست فلاں فلاں چور، فلاں فلاں ڈاکو، فلاں فلاں لُٹیرا۔ شہر کی تباہی اور بربادی کے اصل ذمہ دار عوامی اکثریت کی بزدلی اور چاپلوسی ہے۔جب تک یہ منافقانہ سلسلہ بند نہیں ہوگا شہر کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔
نوٹ: بدعنوانیوں کے خلاف لڑائی کا ڈھنڈورہ پیٹنے والے ارب پتی لیڈران عوامی خزانے کے چور ہیں اور توڑی باز ہیں، کیونکہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ایماندار ہوتا تو باقی کے سارے جیل میں ہوتے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطاء فرمائے۔ قوم کو ایماندار اور خلوصِ نیت سے کام کرنے والے لیڈر عطاء فرمائے، ہمارے دِلوں سے بیت المال کے لٹیروں اور قوم کے بچوں کے مستقبل تباہ کرنے والے لیڈروں کا ڈر و خوف، بزدلی، چاپلوسی اور مکّاری کا خاتمہ فرمائے۔ آمین۔
از قلم:
کلیم یُوسف عبداللہ
گرین مالیگاؤں ڈرائیو
1 تبصرے
یوسف عبداللہ کو بہت مباکباد
جواب دیںحذف کریں