بدقسمت سلیب

از قلم ؛ فرنود رومی
نیاپورہ اہل  مسجد کے سلیب پر سے گزرنے کی آج سعادت نصیب ہوئی.
گذر کیا ہوا، نصیبے کھل گئے. ٹوٹے سلیب کے قریب پہونچے تو گاڑی کو لہراتے ہوئے گزارنا پڑاکہ کہیں اس کا چاک ٹوٹے سلیب کی گود میں نہ جاگرے۔ نتیجتاً جو لطیف سی لچک ریڑھ کی ہڈی اور buttock  میں پیدا ہوئی ہے ، اس کی ٹیٖس کے کیا کہنے..ہائے ہائے. شاید یہ کمر توڑ کثرت اس راستے کے راہگیروں کو راس آگئی ہے، کہ کوئی اُف تک نہیں کہتا.
رہی سہی کسر آج کی موسلادھار بارش نے پوری کر دی کہ اب گمانِ قوی ہوچلا ہے کہ اسی ٹوٹے سلیب سے "نہرِ پراگندہ" کے ظہور کے بعد اس کے بہاؤ کے ساتھ، "لہسن اور کاندے" نِکل نِکل باہر جھانکیں گے.
رضوان بیٹری والا پر اللہ رحم کرے کہ وہ آج بے ساختہ یاد آگئے.
ایک سال قبل شوٹ کیا گیا یہ ویڈیو آج اس ٹوٹے سلیب کی anniversary کے موقع پر اسی طرح تازہ معلوم ہوتا ہے.
ہر چھ مہینہ ایک سال پر آپ اسے دیکھ دیکھ اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچا سکتے ہیں،  اور کیوں نہ یہ سعادت حاصل ہو کہ اس سلیب کی قسمت میں پائیداری ہی نہیں لکھی.چنانچہ ہر نئی تعمیر کے بعد اپنی قسمت پر "ٹوٹ پھوٹ" کر روتا ہے.

23 جون، 2022

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے